اسلام آباد:(آئی پی ایس) اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے مقدمے میں اہم موڑ آ گیا۔ عدالت نے 14 ماہ گزرنے کے باوجود فرانزک رپورٹ پیش نہ کیے جانے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو 9 فروری تک رپورٹ سے متعلق آگاہ کرنے کی مہلت دے دی۔
مطیع اللہ جان کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف دائر اپیل پر جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت مطیع اللہ جان اپنے وکلاء قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات کے شواہد موجود ہیں اور چارج فریم کیا جا سکتا ہے۔ جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ “چارج فریم کیوں نہیں ہو سکتا؟”
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ کیس میں آئیس (منشیات) کی پوزیشن موجود ہے اور گواہان بھی دستیاب ہیں، اس لیے چارج فریم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب وکیلِ صفائی قدیر جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ نارکوٹکس کیسز میں ویڈیو ثبوت ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ اس کیس میں کوئی ویڈیو موجود نہیں۔ جس پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے سوال کیا کہ “صرف ویڈیو نہ ہونے کی بنیاد پر کیا چارج فریم نہیں ہو سکتا؟”
قدیر جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ مطیع اللہ جان گزشتہ 30 برس سے کورٹ رپورٹنگ کر رہے ہیں اور 26 نومبر کے واقعے پر رپورٹنگ کے لیے پمز گئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا: “تو کیا یہ آپ کا ڈیفنس ہے؟”
عدالت نے کلاشنکوف برآمدگی کے الزام پر بھی سوال اٹھایا، جس پر وکیلِ صفائی نے مؤقف اپنایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق منشیات کے کیسز میں ویڈیو ثبوت کے بغیر مقدمہ نہیں چل سکتا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ اگر منشیات کی پوزیشن موجود ہو تو چارج فریم نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟
قدیر جنجوعہ نے بتایا کہ 28 نومبر 2024 کو سیمپلز فرانزک کے لیے بھیجے گئے تھے لیکن 14 ماہ گزرنے کے باوجود رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ “کیا ابھی تک فرانزک بھی نہیں ہوا؟”
تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ فرانزک کے لیے ریمائنڈر بھیجے گئے ہیں تاہم رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے سرکار کو آئندہ سماعت تک فرانزک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی۔
