Thursday, January 29, 2026
ہومبریکنگ نیوزانٹرنیشنل اداروں میں بھارتی شہری سیکیورٹی خطرہ بن گئے؟ عالمی رپورٹ میں تشویشناک انکشافات

انٹرنیشنل اداروں میں بھارتی شہری سیکیورٹی خطرہ بن گئے؟ عالمی رپورٹ میں تشویشناک انکشافات

اسلام آباد /دبئی(آئی پی ایس )بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق عالمی اور مغربی اداروں میں بھارتی نژاد افراد کی حساس عہدوں پر تعیناتی کو ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت حساس نوعیت کی معلومات تک رسائی کے لیے بیرون ممالک میں موجود اپنے شہریوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سائبر دفاعی ادارے سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کے عبوری سربراہ مدھو گوتمکلا نے حساس سرکاری دستاویزات ایک اے آئی ایپلیکیشن پر اپلوڈ کر دیں۔ یہ دستاویزات For Official Use Only کے زمرے میں شامل تھیں۔اس واقعے کے بعد امریکی محکمہ داخلی سلامتی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مدھو گوتمکلا کا تعلق بھارت کی ریاست آندھرا پردیش سے ہے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران CISA کے عبوری سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی نژاد افراد سے منسلک حساس ڈیٹا لیک یا جاسوسی کے الزامات سامنے آئے ہوں۔ اکتوبر 2025 میں بھارتی نژاد امریکی اسٹریٹجک ماہر ایشلی جے ٹیلس کو گرفتار کیا گیا تھا، جن کے گھر سے ایک ہزار سے زائد خفیہ اور ٹاپ سیکریٹ امریکی دفاعی دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔اسی طرح 2023 میں قطر میں جاسوسی کے الزام میں بھارتی بحریہ کے آٹھ سابق افسران کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ امریکی سیکیورٹی اداروں نے ان واقعات کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات مغربی اور خلیجی ممالک میں بھارتی شہریوں کی حساس معلومات تک رسائی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک طویل عرصے سے ایسا پیٹرن سامنے آ رہا ہے جس میں دفاعی منصوبوں، خفیہ معلومات اور سائبر نظام تک رسائی میں بھارتی نژاد افراد ملوث پائے گئے ہیں۔ ماہرین نے امریکہ سمیت مغربی اور خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ حساس عہدوں پر فائز افراد کے پس منظر، روابط اور ممکنہ مفادات کا ازسرِنو جائزہ لیں تاکہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔