بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے ملاقات کی، جو چین کے سرکاری دورے پرموجود ہیں۔جمعرات کے روز چینی میڈیا کے مطابق فریقین نے طویل مدتی اور مستحکم چین برطانیہ جامع تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ کچھ عرصے سے بین الاقوامی نظم و نسق شدید متاثر ہوا ہے۔ بین الاقوامی قوانین صحیح معنوں میں تب ہی موثر ہوتے ہیں جب تمام ممالک ان کی پاسداری کریں، اور اس معاملے میں بالخصوص بڑی طاقتوں کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
چین اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے بڑے امکانات کو بڑے ثمرات میں تبدیل کرنے کے لیے برطانیہ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ چین کو امید ہے کہ برطانیہ چینی کمپنیوں کے لیے مساوی، منصفانہ اور غیر امتیازی کاروباری ماحول فراہم کرے گا۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی اعتماد ممالک کے درمیان تعلقات کی مستحکم اور طویل مدتی ترقی کی بنیاد ہے۔ہم چین کا دورہ کرنے کے لئے برطانوی حکومت، پارلیمنٹ اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا خیرمقدم کرتے ہیں تاکہ وہ چین کے بارے میں جامع، معروضی اور درست ادراک کو بڑھائیں۔ اس حوالے سے چین برطانیہ کے لیے یکطرفہ ویزا فری پالیسی اپنانے پرغور کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ طویل مدتی، مستحکم اور جامع تزویراتی شراکت داری قائم کرنا بہت ضروری ہے۔ تائیوان کے معاملے پر برطانیہ کی دیرینہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی آئے گی۔ برطانیہ دونوں ممالک کے قانون ساز اداروں سمیت دیگر شعبوں کے درمیان تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ برطانیہ کو اس بات پر خوشی ہوگی کہ ہانگ کانگ دونوں ممالک کے درمیان ایک منفرد اور اہم پل بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین بین الاقوامی امور میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور برطانیہ موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے اور مشترکہ طور پر عالمی امن و استحکام کے تحفظ کے لیے چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔
