پشاور(آئی پی ایس )ڈی آئی خان میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کی شناخت 21 سالہ عبدالرحمن نامی شخص سے ہوئی جو افغان دہشتگرد نکلا۔
فوٹیج کے مطابق خودکش بمبار سفید چادر اوڑھے پنڈال میں داخل ہوا، خودکش بمبار قبائلی رقص کے دوران اچانک پنڈال چھوڑ کر عقب میں واقع ایک کمرے کی طرف گیا، جہاں عقابرینِ علاقہ موجود تھے۔خودکش بمبار نے کمرے میں داخل ہوتے ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں کمرے کی چھت منہدم ہوگئی، واصلِ جہنم خودکش بمبار کے علاوہ حملہ میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔خودکش حملہ امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے بھتیجے کی شادی کی تقریب میں کیا گیا۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے موثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی وجہ سے دہشت گرد اب براہِ راست سیکیورٹی فورسز کا سامنا کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ دہشت گرد اپنی ناکامی چھپانے اور خوف پھیلانے کے لیے عوامی اجتماعات، مذہبی تقریبات اور نہتے شہریوں جیسے سوفٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔دہشت گردی میں افغان باشندوں کی شمولیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گرد نیٹ ورکس کو ریاستی سطح پر مکمل سرپرستی اور سہولت فراہم کر رہی ہے۔
افغان طالبان رجیم کی منظم سرپرستی میں فتن الخوارج کی دہشتگردی اور خودکش حملے خطے کے لیے ناسور بن چکے ہیں، جن کا جلد از جلد اور فیصلہ کن خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔دوسری طرف خودکش حملے کا مقدمہ دہشت گردی و دیگر دفعات کے تحت تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مقدمے میں دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں، پولیس کے مطابق ڈی آئی خان میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والا دھماکہ خودکش تھا، جس میں چھ افراد شہید ہوئے۔مقدمے کے متن کے مطابق ڈی این اے سیمپلز اور فرانزک شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں، شادی کی تقریب کے دوران مہمانوں کے کمرے میں زور دار دھماکا ہوا تھا، دھماکے کے بعد تفتیشی ٹیم نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے۔مقدمے کے متن کے مطابق دھماکے سے کمرہ منہدم ہوا، لاشوں کو ملبے سے نکالا گیا، واقعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لیکر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
