اسرائیلی فوجی ریڈیو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی تعداد اس ہفتے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے جوگزشتہ برس جون میں ایران کیخلاف کارروائی کے بعد سب سے زیادہ ہے جبکہ امریکی فوج کی مشرق وسطیٰ میں آئرن کلاد تعیناتی،812 ٹوماہاک میزائل فوری استعمال کے لیے تیار ہیں،یہ پیشرفت امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر کے تل ابیب دورے کے دوران سامنے آئی۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے تصدیق کی کہ دفاعی حلقے امریکی فوج کی اس تعیناتی کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ممکنہ وسیع حملے اور دبائو ڈالنے کے لیے ایک مضبوط فوجی دھمکی کے طور پردیکھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ مسلسل رابطے کے باوجود ایران کے معاملے پر فی الحال کوئی آپریشنل ہم آہنگی موجود نہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حتمی فیصلے تک صورتحال غیر واضح ہے۔
دریں اثناء امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، یہ بات امریکا کی تازہ ترین نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی میں کہی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اس موقف کا اظہار کر چکے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی میں کہا گیا ہے کہ ایران کی قیادت نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ وہ دوبارہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے،واشنگٹن ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اس حوالے سے رائٹرز سے گفتگو میں ایک ایرانی عہدے دار نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایران ہائی الرٹ پر ہے اور بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی حملے کو ہمہ گیر جنگ تصور کیا جائے گا،محدود یا سرجیکل حملہ بھی ہوا تو سخت ترین جواب دینگے۔
