Monday, January 26, 2026
ہومکالم وبلاگزچبوترے سے اٹھتی آوازیں: پچوانہ میں مکالمہ اور معافی کی روایت

چبوترے سے اٹھتی آوازیں: پچوانہ میں مکالمہ اور معافی کی روایت

تحریر: عبدالعزیز اعوان
جنرل سیکرٹری، اسٹیٹ یوتھ اسمبلی

کچھ مقامات صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتے، وہ احساس بن جاتے ہیں۔ کچھ لوگ محض افراد نہیں رہتے، وہ روایت بن جاتے ہیں۔ اور کچھ معاشرے کتابوں میں نہیں ملتے، وہ انسانوں کے رویّوں میں سانس لیتے ہیں۔ پچوانہ میرے لیے ایسا ہی ایک احساس، ایسی ہی ایک روایت اور ایسا ہی ایک زندہ معاشرہ ہے، جس سے میرا رشتہ آج سے ایک سال قبل جُڑا تھا اور جو آج 66ویں ماہانہ اجلاس تک آ کر مزید مضبوط ہو چکا ہے۔


جب میں نے پہلی مرتبہ پچوانہ کے مثالی معاشرے کے 55ویں ماہانہ اجلاس میں شرکت کی تھی، تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ شرکت محض ایک تقریب میں حاضری نہیں بلکہ ایک فکری سفر کا آغاز ہے۔ آج، ایک سال بعد، اسی سلسلے کے 66ویں اجلاس میں شرکت کرکے یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پچوانہ نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ معاشرہ صرف شکایت سے نہیں بدلتا، بلکہ کردار سے بنتا ہے۔


پچوانہ کی نشست کا منظر آج بھی میری آنکھوں میں نقش ہے۔ ایک اونچا چبوترہ، جو محض مٹی اور اینٹوں سے بنا ہوا نہیں، بلکہ صدیوں کی دانائی، مشاورت اور اجتماعی شعور کی علامت ہے۔ اس چبوترے کے ساتھ ہی کھڑا وہ درخت، جسے قدرت نے جیسے سات رنگوں سے سجا دیا ہو۔ یہ درخت محض سایہ نہیں دیتا، یہ تحفظ دیتا ہے، ٹھنڈک دیتا ہے، دلوں کو جوڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر ہر ایک کو یکساں مستفید کرتا ہے۔ اس کے نیچے بیٹھنے والے سب برابر ہوتے ہیں۔ نہ کوئی بڑا، نہ کوئی چھوٹا؛ نہ کوئی صاحبِ حیثیت، نہ کوئی کمزور۔
یہ منظر کسی افسانے کا حصہ لگتا ہے، مگر پچوانہ میں یہ روزمرہ حقیقت ہے۔ سات رنگوں سے مزین وہ درخت مجھے بار بار یہ احساس دلاتا ہے کہ شاید قدرت نے خود اس بستی کو پیغام دیا ہے کہ جس معاشرے میں رنگوں کو قبول کیا جاتا ہے، اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے، وہاں زندگی خوبصورت ہو جاتی ہے۔ اور وہ اونچا چبوترہ، جیسے اعلان کرتا ہو کہ گفتگو اگر بلند مقام پر ہو، تو جھگڑے نیچے رہ جاتے ہیں۔


اسی چبوترے پر بیٹھ کر بزرگ اپنے تجربات بانٹتے ہیں، نوجوان اپنے سوال رکھتے ہیں، خواتین، پردے میں بیٹھ کر مثالی معاشرے کی تعمیر اور تشکیل میں اپنا پورا حصہ شامل کرتی ہیں اور بچے خاموشی سے سیکھتے ہیں کہ اختلاف کے باوجود ایک ساتھ کیسے رہا جاتا ہے۔ یہاں فیصلے چیخ و پکار سے نہیں، بلکہ تحمل اور فہم سے ہوتے ہیں۔


اگر کسی کے دل میں رنجش ہو تو وہ اسی محفل میں لفظوں کا بوجھ اتار دیتا ہے۔ کوئی اٹھ کر کہتا ہے:
“اگر میری بات سے دل دکھا ہو تو میں معافی چاہتا ہوں، بات کو یہیں ختم کر لیتے ہیں۔”
سامنے سے جواب آتا ہے:
“دل بڑا کرو، بات ہوگئی، اب گلے لگ جاؤ۔”
یہاں معافی رسمی لفظ نہیں، زندہ عمل ہے۔ معافی مانگنا ذلت نہیں، عظمت سمجھا جاتا ہے۔ معاف کرنا کمزوری نہیں، بلکہ سب سے بڑی طاقت مانا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پچوانہ کا بنیادی سلوگن سانس لیتا ہے، معافی اور مکالمہ۔
پچوانہ کی ایک اور نمایاں خوبی شہری شعور کی آبیاری ہے۔ یہاں گفتگو صرف ماضی کی روایات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ حال اور مستقبل پر بھی گہری نظر رکھی جاتی ہے۔ ووٹ کے آزادانہ استعمال پر ہونے والی بات چیت نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔ یہاں یہ بات کھلے دل سے کہی جاتی ہے کہ ووٹ کسی خاندان کا نہیں، ہر فرد کا حق ہے۔ خصوصاً خواتین کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ ان کی رائے کی وہی اہمیت ہے جو کسی مرد کی۔ یہ سوچ اس بات کا ثبوت ہے کہ پچوانہ روایت کے ساتھ ساتھ شعور کا بھی امین ہے۔
اجلاس کے بعد جب اجتماعی دسترخوان بچھتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فاصلے خود بخود سمٹ جاتے ہیں۔ ایک ہی چولہے پر پکا ہوا کھانا، ایک ہی صف میں بیٹھے لوگ۔ جہاں ذات، حیثیت اور فرق مٹ جاتے ہیں۔ یہ صرف جسم کی غذا نہیں ہوتی، یہ روحوں کی پیاس بھی بجھاتی ہے۔ مشرقی تہذیب میں دسترخوان ہمیشہ محبت اور برابری کی علامت رہا ہے، اور پچوانہ نے اس علامت کو زندہ رکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ اقدار اگر دل سے نبھائی جائیں تو کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔
ایک سال کے اس مسلسل مشاہدے نے مجھے اس نتیجے تک پہنچایا ہے کہ مثالی معاشرہ کوئی خواب نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ پچوانہ کے لوگ اس عمل کو خاموشی سے، مگر پورے خلوص کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ یہاں اتحاد نعرہ نہیں، معمول ہے۔ یہاں اخوت تقریر نہیں، کردار ہے۔ یہاں روایات بوجھ نہیں، شناخت ہیں۔
آج جب معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جب رشتے مفادات کی نذر ہو رہے ہیں، پچوانہ امید کی ایک کرن ہے۔ اگر ہمارے دوسرے گاؤں، قصبے اور شہر بھی ایسے ہی چبوتروں کو آباد کرلیں، ایسے ہی سات رنگوں والے درختوں کے سائے تلاش کرلیں، تو شاید ہمیں باہر سے اصلاح کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ مثالی معاشرے کی بنیاد نہ اینٹ ہوتی ہے، نہ قانون۔ بلکہ انسان ہوتا ہے۔ اور پچوانہ کے لوگ اس بنیاد کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ یہ بستی آج بھی گواہی دے رہی ہے کہ اگر نیت صاف ہو، دل وسیع ہوں، اور مکالمہ زندہ ہو تو معافی خود راستہ بنا لیتی ہے اور معاشرہ خود بخود مثالی بن جاتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔