Monday, January 26, 2026
ہومتازہ تریناگر مقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں، چیف الیکشن کمشنر

اگر مقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں، چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد (سب نیوز)چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ اگرمقامی حکومتیں نہیں ہوتیں تو صوبائی حکومت کے ہونیکا بھی کوئی جواز نہیں بنتا،یہ انتہائی شرمندگی کی بات ہے کہ پنجاب میں دو ہزار اکیس سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے۔الیکشن کمیشن میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ سماعت کی۔

چیف الیکشن کمشنر نے اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت دی کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی الیکشن کمیشن کی کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرے اور دونوں کمیٹیاں دس فروری تک اپنا کام مکمل کریں۔چیف الیکشن کمشنر نے خبردارکیا کہ اگر مقررہ ٹائم لائن پرعمل نہ ہوا تو الیکشن کمیشن معاملات اپنے ہاتھ میں لے گا،ضرورت پڑنے پر بیس فروری کو وزیر اعلی پنجاب کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے،اورہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ وزیر اعلی کو طلب کر کے یہاں بٹھانا پڑے۔سماعت کے دوران سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نے بتایاکہ معاملہ پنجاب کابینہ کی کمیٹی میں گیا جہاں تاخیر سے نمٹایا گیا،یونین کونسلز اورٹاونزکی ڈیمارکیشن پراعتراضات دورکیے جارہے ہیں اور 26جنوری تک ڈیمارکیشن مکمل کر لی جائے گی۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ بعض مجبوریوں کے باعث ایک سے سوا ماہ کی تاخیر ہوئی،جس کی بڑی وجہ اربن اوررورل علاقوں کی نشاندہی کا تنازع ہے،ہرکوئی چاہتا ہے کہ اس کا علاقہ اربن قراردیا جائے، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کے مطابق بلدیاتی الیکشن رولزکو دوبارہ ڈرافٹ کرلیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد انہیں نوٹیفائی کردیاجائے گا۔چیف سیکرٹری پنجاب نے مزیدبتایا کہ پہلے منظوری کا اختیاروزیراعلی کے پاس تھا،تاہم اب یہ اختیار صوبائی کابینہ کے پاس ہے،الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کروائی گئی کہ اضلاع کی حد تک ڈیمارکیشن کے سوا تمام تیاریاں مکمل ہیں اورمزیدتاخیرنہیں ہوسکتی،الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔