اسلام آباد: (سب نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کے خلاف دائر کیس میں فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے درآمدی پابندی کو آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو اس معاملے پر ازسرِنو غور کی ہدایات جاری کی تھیں، جس کے خلاف وفاقی حکومت نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔
سماعت کے دوران ریونیو ڈویژن کی جانب سے حافظ احسان احمد کھوکھر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے 2019 میں آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی عائد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی، تجارتی پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات عدالتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
حافظ احسان احمد کھوکھر نے مؤقف اپنایا کہ دشمن ممالک سے تجارت سے متعلق فیصلے خالصتاً حکومتی اختیار ہیں اور عدالتیں پالیسی پر نظرثانی یا ازسرِنو غور کی ہدایات جاری نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی ہدایات آئینی اختیارات کی تقسیم کے منافی ہیں اور اگر ایسے احکامات برقرار رہے تو عدالتی مداخلت کا سیلاب آ جائے گا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے بھی ہائی کورٹ کی ہدایات کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ درآمدی پابندی برقرار رکھی جائے، کیونکہ ہائی کورٹ پالیسی معاملات میں مداخلت کی مجاز نہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے فارن پالیسی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے 2019 میں بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی عائد کی تھی۔
عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
