اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کی بہتری کے حوالے سے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس منعقد ہوا۔ جسمیں سی ڈی اے بورڈ کے ممبر فنانس طاہر نعیم، ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا، ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر انوائرمنٹ اسفندیار بلوچ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن، ڈی جی انوائرمنٹ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے موجودہ نظام کی بہتری اور مستقبل کے حوالے سے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نظام کے تحت صفائی ستھرائی کے مسائل کا فوری اور پائیدار حل اپنانا چاہتے ہیں۔اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سروسز کی آٹ سورسنگ کے عمل پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سروسز کی آٹ سورسنگ کیلئے بڈنگ کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس نظام کے تحت شہری و دیہی علاقوں پر مشتمل مختلف پیکجز تیار کئے گئے ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اس نظام کے تحت پرائمری اور سیکنڈری کولیکشن دونوں شامل ہونگی۔ چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ شہر میں گندگی پھیلانے اور کوڑا کرکٹ کے غیر مقررہ مقامات پر پھینکنے والے عناصر کیخلاف جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اجلاس میں ٹرانسفر اسٹیشن کی اپگریڈیشن اور جدید لینڈ فل سائٹس کے قیام کے حوالے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے موجودہ ٹرانسفر اسٹیشن کی اپگریڈیشن کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزید ٹرانسفر اسٹیشن اور سائنٹیفک لینڈ فل سائٹس کے قیام کے حوالے سے ورکنگ کرنے کی بھی ہدایت کی۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کیلئے نئی لینڈ فل سائٹس کو جدید ترین سائنسی اصولوں پر تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ فل سائٹ ماحول دوست اور عصر حاضر کے معیارات پر پورا اترے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ یہ اقدامات وفاقی دارالحکومت کو صاف ستھرا اور صحتمند ماحول فراہم کرنے کی سمت ایک اہم پیشرفت ثابت ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صفائی ستھرائی کے جدید اور اعلی نظام کو وضع کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
