شاویز ہاشمی
ایران ایک قدیم تہذیب، مضبوط ریاستی ڈھانچے اور مشرقِ وسطیٰ میں گہرے سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والا ملک ہے۔ صدیوں پر محیط تاریخ، ثقافتی تسلسل اور نظریاتی شناخت نے ایران کو خطے میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ تاہم آج ایران اپنی تاریخ کے ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے، جہاں اندرونی دباؤ، طویل بیرونی پابندیاں اور عالمی سیاست کی بدلتی ترجیحات نے اسے ایک پیچیدہ اور مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران کو درپیش سب سے بڑا چیلنج معاشی محاذ پر ہے۔ برسوں سے عائد امریکی اور مغربی پابندیوں نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تیل کی برآمدات میں رکاوٹ، بینکاری نظام کی محدود رسائی، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام، خصوصاً نوجوان نسل، کو شدید متاثر کیا ہے۔ آج کا ایرانی نوجوان آزادیِ اظہار، سماجی حقوق اور بہتر معاشی مواقع کا خواہاں ہے۔ یہ خواہشات ایک فطری عمل کا حصہ ہیں، جو کسی بھی زندہ اور متحرک معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔
ایرانی معاشرے میں مذہبی اور غیر مذہبی طبقات کے درمیان ایک واضح فرق ضرور موجود ہے، تاہم یہ تاثر درست نہیں کہ اکثریت نظام کی مکمل تبدیلی کی خواہاں ہے۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ایرانی عوام کی بڑی تعداد اسلامی نظام کی حامی ہے، مگر وہ حکمرانی کے طریقۂ کار، شفافیت اور معاشی انصاف میں بہتری چاہتی ہے۔ موجودہ احتجاجی تحریک کو اگر بغور دیکھا جائے تو یہ زیادہ تر اصلاحات اور بہتری کا مطالبہ ہے، نہ کہ نظام کے مکمل خاتمے کی تحریک۔ اس کے برعکس رجیم چینج کا نعرہ زیادہ تر غیر مذہبی اور بیرونی حمایت یافتہ حلقوں کی جانب سے بلند کیا جا رہا ہے۔
یہ کہنا بھی حقیقت سے بعید نہیں کہ محض عوامی احتجاج کے نتیجے میں اسلامی حکومت کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔ البتہ بیرونی مداخلت، خفیہ آپریشنز یا عسکری دباؤ ایران کو عدم استحکام کی طرف ضرور دھکیل سکتے ہیں، جس کے نتائج پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
خارجہ محاذ پر ایران کی پالیسی ہمیشہ جرات مندانہ اور نظریاتی رہی ہے۔ ایران نے فلسطین کے مسئلے پر مستقل اور کھل کر حمایت کی ہے، جس کے باعث اس کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ دوسری جانب چین اور روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات ایران کے لیے ایک متبادل سفارتی اور معاشی راستہ فراہم کر رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اور مشرقی بلاک کے ساتھ تعاون اس بات کی علامت ہے کہ ایران یکطرفہ عالمی نظام سے ہٹ کر نئے امکانات تلاش کر رہا ہے۔
اگر خطے میں جنگ یا براہِ راست تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ کے امن، عالمی منڈیوں، توانائی کے نظام اور بالخصوص پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کے مفادات اس سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ایران میں عدم استحکام خطے میں فرقہ وارانہ تناؤ، مہاجرین کے بحران اور سیکیورٹی خدشات کو جنم دے سکتا ہے۔
آج ایران کے سامنے لیے جانے والے فیصلے صرف اس کی اپنی تقدیر کا تعین نہیں کریں گے بلکہ یہ فیصلے آنے والے برسوں میں پورے خطے اور دنیا کے امن و استحکام پر دور رس اثرات مرتب کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے حالات کو محض اندرونی مسئلہ سمجھنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔
