مری/راولپنڈی:(آئی پی ایس)
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری ڈاکٹرمحمد رضا تنویر سپرا نے21 جنوری تک مری میں متوقع شدید برفباری کے پیشِ نظر ‘مشن سیف ونٹر’ کو حتمی شکل دیتے ہوئے پورے شہر کے گرد ایک ‘جدید تکنیکی حصار’ قائم کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات، این ڈی ایم اے پی ڈی ایم،پی ڈی ایم اے کی جانب سے 17 سے 21 جنوری کے دوران برفانی طوفان اور شدید سرد لہر کی پیش گوئی کے بعد، مری پولیس نے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فیلڈ فورس اور جدید ترین نگرانی کے نظام کو مربوط کر دیا ہے۔
موسمیاتی تجزیوں کے مطابق 19 اور 20 جنوری کو برفباری کی شدت اپنے عروج پر ہوگی، جس سے سڑکوں پر شدید پھسلن اور حدِ نگاہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ڈی پی او مری نے مری کے تمام داخلی راستوں پر کڑی نگرانی کا حکم دیا ہے اور برف ہٹانے والی مشینری کو اہم شاہراہوں پر الرٹ کر دیا ہے۔
ڈاکٹر محمد رضا تنویر نے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تفریح کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے تحفظ کو بھی مقدم رکھیں اور ذمہ دارانہ سیاحت کا ثبوت دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ برفباری میں گاڑی کھڑی کرتے وقت یا دورانِ سفر ہیٹر استعمال کرتے ہوئے شیشہ تھوڑا سا کھلا رکھیں تاکہ آکسیجن کی کمی نہ ہو اور زہریلی گیس (کاربن مونو آکسائیڈ) کے باعث کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ گاڑی میں سنو چین (لوہے کی زنجیروں) کا ہونا لازمی ہے، اس کے بغیر برفانی سڑکوں پر سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈی پی او مری کا کہنا تھا کہ سفر پر نکلنے سے قبل گاڑی کی ٹنکی فل رکھیں اور اپنے ساتھ وافر مقدار میں گرم کپڑے اور خشک راشن رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس ‘حفاظتی حصار’کی نگرانی سیف سٹی کے 181 کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ ڈی پی او مری نے پولیس اہلکاروں کے رویے اور ٹریفک مسائل کی شکایات کے لیے ‘ڈی پی او ڈائریکٹ’ واٹس ایپ سروس (03111177553) کو بھی چوبیس گھنٹے فعال رکھا ہے۔ کسی بھی ناگہانی آفت یا ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کے لیے سیاحوں کو 15 پر کال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈی پی او مری کا کہنا ہے کہ “ہمارا مقصد مری آنے والے ہر سیاح کی سلامتی ہے، مگر اس کے لیے شہریوں کا تعاون اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔
