اسلام آباد (سب نیوز)
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کے تناسب سے سالانہ حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لئے سعودی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں، قوی امید ہے کہ دیگر ممالک کے کوٹہ میں اضافے کے ساتھ پاکستان کے کوٹہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر پرائویٹ حج سکیم میں حج پیکیج کے لئے اصلاحات پر کام کر رہے ہں،روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ میں عازمین حج کی دوہری امگرپیشن کے لئے لاہور کو بھی شامل کرنے لئےکام تیزی سے جاری ہے ،حج 2025 کے بعد 75فیصد شکایات کم ہوئیں اس سال مزید کم کرنے کے لئے کوشاں ہیں ،حج 2026 کے لئے 38ہزار سے زائد عازمین حج اسلام آباد ائیرپورٹ سے روٹ ٹو مکہ کے زریعے امگرییشن کرائیں گے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو حج کمپلیکس اسلام آباد میں حج تربیتی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب اور میڈ یا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان، جوائنٹ سیکرٹری و چیف کوآرڈینیٹر ٹریننگ احمدنذیر خان، ڈائریکٹر حج قاضی سمیع الرحمان اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات اور وفاقی کابینہ سے منظور شدہ حج پالیسی 2026 کی روشنی میں تمام انتظامات سعودی ٹائم لائن کے مطابق بروقت مکمل کیےجا رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک کی نسبت پاکستان کا حج پیکیج اب بھی سستا اور معیاری ہے۔
وفاقی وزیر نے حج انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد اور کراچی کے ساتھ ساتھ لاہور ایئرپورٹ کو بھی شامل کرنے کے لئے کام تیزی سے جاری ہے، جس کے ذریعے عازمین حج کی دوہری امیگریشن پاکستان میں ہی مکمل ہو جائے گی اور حجاج سعودی ایئرپورٹ پر قطاروں مںی لگنے کے بجائے براہ راست بسوں کے زریعے اپنی رہائش گاہوں پر پہنچ سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال اسلام آباد ایئرپورٹ سے 38 ہزار سے زائد عازمین اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے جبکہ پشاور کے عازمین بھی اسلام آباد سے سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری حج سکیم کے تحت 1 لاکھ 20 ہزار عازمین کو دو اقساط میں رقم ادائیگی کی سہولت دی گئی تھی جس پر عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ حج سکیم میں بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں تاکہ نجی شعبے کے ذریعے جانے والے حجاج کو بھی معقول پیکیج اور بہتر سہولیات میسر آسکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے اور بہترین انتظامات پر سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کو ‘ایکسلینس ایوارڈ’ سے نوازا گیا ہے، اب ہمارا ہدف ٹاپ تھری ممالک مں شامل ہونا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حجاج کی خدمت پر مامور سرکاری عملے کا نام ‘معاونن حج’ سے تبدیل کر کے دوبارہ ‘خدام الحجاج’ کر دیا گا ہے، کیونکہ نکہ سعودی فرمانروا بھی خود کو خادمِ حرمین شرمین کہلانے مںے فخر محسوس کرتے ہیں اور ہم نے اسی سنت کی تقلید کی ہے۔ انہوں نے واضح کاو کہ تمام سرکاری حجاج کے لئے العزیزیہ اور مکہ القریش میں مساوی سہولیات والی عمارتںں حاصل کی گئی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ تربیت کا دوسرا مرحلہ رمضان المبارک کے بعد شروع ہوگا جس میں تمام امور، ویکسینیشن اور دیگر سہولیات کے بارے مںی تفصیلات کے ساتھ آگاہی فراہم کی جائے گی۔
عازمن حج کی تربیت اور نظم و ضبط کے حوالے سے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ حج ایک مشقت اور آزمائش کا عمل ہے جس کے لئے صبر اور برداشت کا مظاہرہ لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور نے 22 نکاتی رہنمائی اصول مرتب کیے ہیں جن پر عمل کرکے مناسکِ حج کی ادائیگی آسان بنائی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے عازمین کو تاکید کی کہ حریمین شریفین کے قوانین اور ضابطوں کا خاص خیال رکھا جائے اور وہاں سنت کے مطابق عبادات پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض لوگ طواف یا روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے دوران موبائل فون پر تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مصروف رہتے ہیں، جس سے عبادت کا اصل مقصد متاثر ہوتا ہے۔ حجرِ اسود کو بوسہ دیتے وقت دوسروں کو تکلیف دینے سے گریز کیا جائے کیونکہ دور سے سلام کرنا بھی مسنون عمل ہے۔ksd
