تحریر: ثاقب خان کھٹڑ
یہ سوال صدیوں سے ہمارے سماج کے اجتماعی ضمیر پر دستک دے رہا ہے کہ زمین کا اصل مالک کون ہے؟ وہ جس کے نام پر فردِ ملکیت درج ہے، یا وہ جو طاقت، رشتہ داری اور جبر کے بل پر خود کو زمین کا خدا سمجھنے لگتا ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں زمین محض ایک اثاثہ نہیں رہی، بلکہ طاقت، انا اور نسل در نسل بالادستی کی علامت بن چکی ہے۔ اسی سوچ کے سائے میں خواتین کے وراثتی حقوق سب سے زیادہ پامال ہوتے رہے ہیں۔
اکیسویں صدی میں، جہاں ڈیجیٹل ریکارڈ، قانونی اصلاحات اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے موجود ہیں، وہاں بھی عورت آج اپنی ہی زمین پر سب سے کمزور فریق بن کر کھڑی نظر آتی ہے۔ ماں ہو یا بیٹی، بہن ہو یا بیوہ، وراثت کا سوال اٹھتے ہی قریبی رشتے دار اجنبی ہو جاتے ہیں، اور اکثر یہی رشتے سب سے بڑے غاصب ثابت ہوتے ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انصاف کے حصول کا راستہ ہمارے ہاں طویل، پیچیدہ اور صبر آزما ہے۔ اگر دادی مقدمہ دائر کرے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ فیصلہ اس کی زندگی میں نہ آ سکے، اور اگر پوتی اپنے حق کا مطالبہ کرے تو اسے خاندان کی روایت اور نام نہاد عزت کے نام پر خاموش رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یوں مسئلہ قانون کا کم اور سماجی جبر کا زیادہ بن جاتا ہے۔
ایسے حالات میں فتح جنگ کا ایک واقعہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ بجال گاؤں کی رہائشی ثریا بی بی، دختر محمد اقبال، نے وہ قدم اٹھایا جو ہمارے معاشرے میں ایک عورت کے لیے سب سے مشکل سمجھا جاتا ہے۔ اس نے اپنے ہی خاندان کے فرد کے خلاف آواز بلند کی اور اپنی ملکیتی اراضی اور حویلی پر ناجائز قبضے کی نشاندہی کی۔
عام طور پر ایسی کہانیاں عدالت کے دروازے پر جا کر برسوں تک لٹکی رہتی ہیں، مگر یہاں معاملہ مختلف رخ اختیار کرتا ہے۔ تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود نے درخواست کو محض فائل کا حصہ نہیں سمجھا بلکہ ایک زندہ انسانی مسئلہ جان کر فوری کارروائی کی۔ وہ گرداور عاشر سہیل اور تحصیل کے عملے کے ہمراہ موقع پر پہنچے، دونوں فریقین کا مؤقف سنا، ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔
قبضہ مافیا کو بے دخل کر دیا گیا اور کروڑوں روپے مالیت کی اراضی اور حویلی موقع پر ہی اصل مالکان کے حوالے کر دی گئی۔ یہ فیصلہ صرف ایک عورت کو زمین واپس دلانے کا عمل نہیں تھا بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک واضح اعلان تھا جو طاقت کو قانون پر فوقیت دیتی ہے۔
سائلین کے چہروں پر اطمینان اور آنکھوں میں تشکر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ انصاف اگر بروقت اور شفاف ہو تو وہ برسوں کے زخم بھی بھر سکتا ہے۔ ثریا بی بی کے لیے یہ محض زمین کی واپسی نہیں بلکہ اس کی شناخت، عزت اور خودمختاری کی بحالی تھی۔
اس موقع پر تحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود نے واضح کیا کہ سائلین کی دادرسی اور میرٹ پر انصاف کی فراہمی ان کی اولین ترجیح ہے، اور حق داران کو ان کا حق دلانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہ وہ جملے ہیں جو اکثر سرکاری بیانات میں سننے کو ملتے ہیں، مگر ان پر عمل کم ہی دکھائی دیتا ہے۔
یہ واقعہ اس بڑے سوال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر انتظامیہ اپنی قانونی حدود میں رہتے ہوئے جرات مندانہ فیصلے کرے تو کتنے ہی معاملات عدالتوں پر بوجھ بننے سے بچ سکتے ہیں، خصوصاً خواتین کے وراثتی حقوق جیسے حساس معاملات میں۔
چوہدری شفقت محمود کی پہچان اب ایک ایسے افسر کے طور پر ابھر رہی ہے جو قانون کو کمزور کے حق میں ڈھال بناتا ہے، نہ کہ طاقتور کے ہاتھ میں ہتھیار۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی حلقوں میں ان کی کارکردگی کو اعتماد، انصاف اور شفافیت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وراثت کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ جب تک عورت کو اس کا یہ حق بغیر خوف اور تاخیر کے نہیں ملتا، تب تک سماجی انصاف کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا ایسے فیصلے روایت بن سکیں گے یا محض چند روشن مثالوں تک محدود رہیں گے؟ کیا ہر بیٹی، ہر بہن اور ہر ماں کو انصاف کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے گا، یا ریاست واقعی اس کے ساتھ کھڑی ہو گی؟
فتح جنگ کا یہ واقعہ امید کی ایک لکیر ضرور کھینچتا ہے — کہ زمین کا خدا کوئی نہیں، بالادست صرف قانون ہے۔
