Tuesday, January 13, 2026
ہومبریکنگ نیوزعوام سے غیرفعال 14 ہزار میگاواٹ بجلی کے 2.2 کھرب روپے وصول کیے جانے کا انکشاف

عوام سے غیرفعال 14 ہزار میگاواٹ بجلی کے 2.2 کھرب روپے وصول کیے جانے کا انکشاف

کراچی (آئی پی ایس )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عوام سے 14 ہزار میگاواٹ غیرفعال بجلی کے 2.2 کھرب روپے وصول کیے گئے ہیں اور نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگیولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے کراچی میں لوڈشیڈنگ سے متعلق دو سال سے زیرالتوا سروے رپورٹ دو دن میں طلب کرلی گئی۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کراچی سے جاری اعلامیہ کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا سولرنیٹ میٹرنگ پالیسی اور نیپرا کے دیگر امور سے متعلق اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرپرسن سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی اور کمیٹی کے دیگر اراکین بھی شریک تھے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے نیپرا حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ صارفین سے 2.2 کھرب روپے اس بجلی کے لے رہے ہیں جو بنی نہیں اور استعمال ہوئی ہی نہیں، یہ وصولی صرف اس لیے کہ سردی میں بجلی کی کھپت کم ہوجاتی ہے۔سینیٹر عبدالقادر نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسمبلی میں اعلانات کردیے کہ بجلی سستی ہوگئی، ایس آئی ایف سی نے آئی پی پیز کا آڈٹ کرلیا، ناکارہ پلانٹ بند کردیے لیکن اس سب کے باوجود نتیجہ کچھ نہیں، 25 کروڑ عوام کے لیے بجلی کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیپرا کے پاس ایک ہزار میگاواٹ کے نئے کنکشنز کی درخواستیں پڑی ہیں، معلوم نہیں کہ ان پر کوئی پیش رفت ہورہی ہے یا نہیں، توانائی کی قیمت کی وجہ سے ہماری برآمدات نہیں بڑھ رہیں، 2200 ارب کے آپ کیپسٹی چارجز لے رہے ہیں، اس کا کیا کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز نے پورا ملک یرغمال بنا رکھا ہے، ان کا فرانزک آڈٹ نہیں ہوتا کہ معلوم ہوسکے انہوں نے کتنا کمایا۔چیئرپرسن کمیٹی رانا محمود الحسن نے کہا کہ کمیٹی متفقہ طور پر یہ سفارش کرتی ہے کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے، کتنی نئی بجلی سسٹم میں آرہی ہے؟ کتنے نئے پاور پلانٹ لگ رہے ہیں یہ بھی بتائیں۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس متعلق مزید بتایا کہ آڈٹ سے معلوم ہوگا کہ آئی پی پیز نے کتنی بجلی بنائی؟ کتنی بجلی فراہم کی اور حکومت سے کیسپٹی چارجز کیا لیے۔سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ آڈٹ میں یہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ کس فیزیبلٹی پر پلانٹس لگے ہیں؟ اراضی کی مالیت کیا ہے، منصوبے کی لاگت کتنی ہے، ایندھن کتنا لیتے ہیں اور پلانٹس پر لگنے والی مشینری کا آٹ پٹ کیا ہے؟ کیا ادارے مشینری کی سالانہ چیکنگ کررہے ہیں۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے استفسار کیا کہ ایک یونٹ میں کیا کیا چارجز لیے جارہے ہیں اور نیپرا کا کیا کردار ہے، جس پر نیپرا عہدیدار نے جواب دیا کہ ٹیرف کے دو حصے ہیں، ایک کیپسٹی چارجز اور دوسرا انرجی چارجز، کیپسٹی چارجز میں ہم ساری لاگت لگاتے ہیں، وہ بجلی کے استعمال سے مشروط نہیں، کیپسٹی چارجز کم نہیں ہوسکتے، 4 کروڑ صارفین میں سے تھری فیز والے صرف 20 لاکھ ہیں اور کیپسٹی پیمنٹ کا حل ہے کہ سیلز بڑھائیں۔

سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ کیپسٹی کا پیسہ جا رہا ہے لیکن لوگوں کو بجلی نہیں مل رہی، آپ انڈسٹری کے لیے پیکیج لے آئیں، سردی میں 10 روپے کی بجلی بیچیں، سیلز بڑھے گی، نیپرا عہدیدار نے مقف اختیار کیا کہ ڈسکوز کی کامن شیئر ہولڈنگ نیپرا کے پاس نہیں آتی، نیپرا صرف کارکردگی کو ریگولیٹ کرتا ہے لیکن گورننس اور شیئرہولڈنگ ہمارے اختیار میں نہیں، سیلز کا کام ڈسٹری بیوشن کمپنیز کا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔