Tuesday, January 13, 2026
ہومبریکنگ نیوزعوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟

عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کرنے والے ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کون ہیں؟

تہران (سب نیوز )ایران کے سابق بادشاہ کے بیٹے اور سابق ولی عہد رضا پہلوی نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں اور ملک گیر ہڑتالوں کو وسعت دیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق رضا پہلوی نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے عوام سے جدوجہد تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی سڑکیں کسی جابر حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہیں اور عوامی احتجاج ہی کسی بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتی ہے۔

رضا پہلوی نے امید ظاہر کی کہ 14 دنوں سے جاری سڑکوں پر عوام کا ہونا اب ایک قومی تحریک میں بدل چکا ہے۔انھوں نے مزید کہا جس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع تر ہو، ڈٹے رہے اور عوام سڑکوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھیں۔رضا پہلوی نے سرکاری ملازمین، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں سے وابستہ افراد، ٹرک ڈرائیورز، اساتذہ، نرسوں، تعلیمی ماہرین، صنعت کاروں، کاروباری شخصیات، پنشنرز اور معاشی مشکلات کا شکار شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ہمہ گیر ہڑتالوں اور مظاہروں کی حمایت کریں۔

رضا پہلوی اکتوبر 1960 میں تہران میں پیدا ہوئے۔ وہ ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے اکلوتے بیٹے ہیں۔شاہی خاندان کے واحد مرد وارث ہونے کے باعث ان کی پرورش خصوصی اور پرتعیش ماحول میں ہوئی۔انہوں نے نجی اساتذہ سے تعلیم حاصل کی اور بچپن ہی سے انہیں بادشاہت کے فرائض کے لیے تیار کیا جاتا رہا۔

نوجوانی میں انہیں امریکی ریاست ٹیکساس بھیجا گیا جہاں وہ لڑاکا طیاروں کے پائلٹ کی تربیت حاصل کر رہے تھے تاہم 1979 کے ایرانی انقلاب نے ان کے مستقبل کا رخ بدل دیا۔انقلاب کے نتیجے میں شاہی حکومت کا خاتمہ ہوا اور امام خمینی کی حکومت قائم ہوئی جس کے بعد رضا پہلوی امریکا میں ہی مقیم ہوگئے۔بعد ازاں انہوں نے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی اور ایک ایرانی نژاد امریکی وکیل یاسمین پہلوی سے شادی کی، جن سے ان کی تین بیٹیاں نور، ایمان اور فرح ہیں۔

رضا پہلوی آج خود کو تخت کے دعوے دار کے بجائے قومی مصالحت کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو آزادانہ انتخابات، قانون کی بالادستی، اور مرد و عورت کے مساوی حقوق کی جانب لے جانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ان کے مطابق ایران کا مستقبل بادشاہت ہو یا جمہوری نظام، اس کا فیصلہ عوام کو ریفرنڈم کے ذریعے کرنا چاہیے نہ کہ کسی فرد یا گروہ کو مسلط کرنا چاہیے۔

گزشتہ برسوں میں ایران میں پہلوی خاندان کے حوالے سے بحث دوبارہ زور پکڑتی نظر آئی ہے۔ 2017 کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بعض علاقوں میں رضا پہلوی کے دادا کے حق میں نعرے لگائے گئے۔اسی طرح 2022 میں پولیس حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے وسیع احتجاجی سلسلے نے رضا پہلوی کو ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ دلائی۔

اگرچہ انھوں نے بیرون ملک بیٹھ کر ایرانی اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوششیں کیں تاہم ناقدین کے مطابق وہ اب تک کوئی مضبوط تنظیمی ڈھانچہ یا مثر آزاد میڈیا نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے ان کی سیاسی تحریک تسلسل برقرار نہ رکھ سکی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔