تحریر: چوہدری شفقت محمود
صدر، پاکستان انویسٹر فورم
جدہ، مملکتِ سعودی عرب
پاکستان کی تاریخ پر اگر دیانت داری سے نظر ڈالی جائے تو ایک طبقہ ایسا ضرور نظر آتا ہے جس نے بغیر کسی شور، مطالبے یا صلے کے، ہر مشکل گھڑی میں وطن کا سہارا بن کر کردار ادا کیا — یہ طبقہ اوورسیز پاکستانیوں کا ہے۔
وہ پاکستانی جو روزگار، تعلیم اور بہتر مستقبل کی تلاش میں سرحدوں سے دور جا بسے، مگر دل، سوچ اور وابستگی آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتی ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو قدرتی آفات ہوں، معاشی بحران ہو یا زرمبادلہ کا دباؤ — ہمیشہ آگے بڑھ کر پاکستان کو سنبھالتے ہیں۔ ان کی ترسیلاتِ زر نہ صرف معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں بلکہ لاکھوں گھروں کے چولہے جلانے کا ذریعہ بھی۔ اس کے باوجود، ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی سطح پر انہیں آج بھی زیادہ تر صرف ڈالر بھیجنے والی مشین سمجھا جاتا ہے، ایک مکمل اور باوقار شراکت دار نہیں۔
.
اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات صرف پیسوں تک محدود نہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانی ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، کاروباری رہنما اور پروفیشنلز وہ قیمتی انسانی سرمایہ ہیں جو جدید نظم و نسق، جدید سوچ اور عالمی تجربات پاکستان منتقل کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اس سرمایہ کو قومی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی؟
بدقسمتی سے پاکستان میں اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ رویہ اکثر مایوس کن رہا ہے۔ سرمایہ کاری کے نام پر پیچیدہ قوانین، غیر ضروری بیوروکریسی، عدم شفافیت اور پالیسیوں کے تسلسل کی کمی نے کئی سنجیدہ سرمایہ کاروں کو بددل کیا۔ نیت ہو تو دروازے کھلتے ہیں، مگر یہاں اکثر دروازے فائلوں اور دستخطوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
سیاسی میدان میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کی آواز کمزور رہی۔ ووٹ کے حق پر تقاریر تو بہت ہوئیں، مگر آج تک ایک مؤثر، قابلِ اعتماد اور مستقل نظام قائم نہ ہو سکا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو بیرونِ ملک بیٹھ کر بھی پاکستان کے سیاسی اور جمہوری مستقبل سے جڑا ہوا ہے، مگر عملی شرکت کے مواقع محدود ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان کے غیر رسمی سفیر ہیں۔ وہ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتے ہیں، منفی پروپیگنڈے کا مدلل جواب دیتے ہیں، اور تجارت، سرمایہ کاری و سیاحت کے نئے دروازے کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر اس سب کے لیے ضروری ہے کہ ریاست انہیں محض نعروں کے بجائے عملی طور پر شراکت دار تسلیم کرے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی پالیسی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرے۔
محفوظ اور شفاف سرمایہ کاری کے مواقع، بااختیار ادارہ جاتی پلیٹ فارمز، قابلِ اعتماد اوورسیز ووٹنگ سسٹم اور پالیسی سازی میں حقیقی مشاورت جیسے اقدامات نہ صرف اعتماد بحال کر سکتے ہیں بلکہ ملکی ترقی کو نئی رفتار بھی دے سکتے ہیں۔
آخر میں سوال بہت سادہ مگر فیصلہ کن ہے:
کیا ہم اوورسیز پاکستانیوں کو صرف مشکل وقت میں یاد کریں گے، یا انہیں قومی ترقی کا مستقل، باوقار اور مؤثر حصہ بنائیں گے؟
اگر پاکستان نے اس خاموش طاقت کو درست سمت دے دی تو معاشی استحکام، عالمی وقار اور مضبوط جمہوریت کوئی خواب نہیں رہیں گے۔
فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔
آخر میں بات پھر وہی ہے —
مسئلہ صلاحیت کا نہیں، اعتماد اور نیت کا ہے۔
اوورسیز پاکستانی آج بھی پاکستان کے لیے سوچتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ریاست انہیں وہ مقام دے گی جس کے وہ حقدار ہیں؟
اگر جواب ہاں میں ہے، تو یہ خاموش طاقت بہت جلد ایک مضبوط قومی قوت میں بدل سکتی ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰
