اسلام آباد (سب نیوز) اسلام آباد میں چار کروڑ روپے مالیت کے مکان کی جعلی این ڈی سی کے ذریعے ٹرانسفر کرنے کا سنگین معاملہ سامنے آ گیا ہے۔
اس سلسلے میں سی ڈی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ بحالیات انوار الحق کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمے کے مطابق مدعی ملک محمد کاشف نے سیکٹر آئی ٹین فور میں واقع چار کروڑ روپے مالیت کا مکان خریدا اور سی ڈی اے کی ون ونڈو سہولت کے ذریعے اس کی ٹرانسفر کروائی۔
بعد ازاں انکشاف ہوا کہ مذکورہ مکان ٹرانسفر ایبل ہی نہیں تھا اور اس مقصد کے لیے جعلی این ڈی سی جاری کی گئی تھی۔
مدعی کے مطابق رقم وصول کرنے کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ بحالیات نے مبینہ طور پر مکان کی ٹرانسفر منسوخ کروا دی، جس کے باعث سائل کو چار کروڑ روپے کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
مقدمے میں جعل سازی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر پر پیسے لینے کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں جبکہ سی ڈی اے سے منسلک کاروباری برادری کی جانب سے اس افسر کے خلاف چیئرمین سی ڈی اے کو متعدد شکایات بھی کی جاتی رہی ہیں۔
تاہم تاحال چیئرمین سی ڈی اے کی جانب سے اس معاملے پر کوئی عملی کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔

