واشنگٹن (سب نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ وینزویلا میں امریکا کی آئل کمپنیاں 18ماہ کے اندر مکمل طور پر فعال ہوکر اپنا کام شروع کرسکتی ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 3جنوری کی شب امریکی فوج نے وینزویلا کے صدارتی محل میں گھس صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو بیڈروم سے گرفتار کرکے نیویارک منتقل کیا۔
صدر ٹرمپ نے امریکی چینل این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا کے تیل کے شعبے کو بحال کرنے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری درکار ہوگی جو امریکی تیل کمپنیاں کریں گی۔ان کے بقول یہ امریکی آئل کمپنیاں پہلے سرمایہ کاری کریں گی اور اس کے بعد امریکی حکومت یا تیل کی آمدنی کے ذریعے انہیں یہ رقوم واپس ادا کی جائے گی۔علاوہ ازیں بی بی سی کے شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز نے دعوی کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں امریکی حکومت اور بڑی تیل کمپنیوں کے نمائندوں کے درمیان اہم ملاقات متوقع ہے۔دوسری جانب توانائی کے ماہرین ٹرمپ کے دعوے پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کیوں کہ وینزویلا کی تیل پیداوار بحال کرنے کے لیے دسیوں ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ وینزویلا میں تیل کی پیداوار کی مکمل بحالی میں 10 سال تک لگ سکتے ہیں۔ جب کہ سیاسی استحکام کے بغیر غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری سے گریز کریں گی۔
