سیئول :سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دوستانہ تعاون ہمیشہ چین اور جنوبی کوریا کے درمیان تبادلوں کا بنیادی موضوع رہا ہے۔ چین طویل عرصے سے جنوبی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے اور جنوبی کوریا بھی چین کا ایک اہم اقتصادی اور تجارتی شراکت دار ہے۔ نومبر 2025 میں چینی صدر شی جن پھنگ نے 11 سالوں میں پہلی بار جنوبی کوریا کا سرکاری دورہ کیا اور چین اور جنوبی کوریا کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری کی ایک بار پھر تصدیق کی۔ لی جے میونگ کا آمدہ دورہ چین نہ صرف 2026 میں جنوبی کوریا کے صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے بلکہ یہ چین اور جنوبی کوریا کے سربراہان مملکت کے درمیان دو ماہ کی قلیل مدت کے دوران دوروں کے تبادلے کو عملی جامہ بھی پہناتا ہے۔ اپنے دورہ چین سے پہلے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جنوبی کوریا کے ایوان صدر میں چائنا میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ جنوبی کوریا اور چین کے تعلقات ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہوں گے۔
لی جے میونگ نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں کچھ ممالک کے درمیان تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں جنوبی کوریا اور چین کے تعلقات ہمارے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ چین کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجودہ غلط فہمیوں یا تنازعات کو کم کرنا یا دور کرنا ہے تاکہ جنوبی کوریا اور چین کے تعلقات کو ترقی کےایک نئے مرحلے تک پہنچایا جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ جنوبی کوریا اور چین کے درمیان قریبی اقتصادی اور تجارتی تعلقات موجود ہیں اور بہت سے ایسے عوامل ہیں جو ایک دوسرے کی اقتصادی ترقی کے لیے فائدہ مند ہیں۔ اگر ہم مسابقت کے باوجود تعاون کے شعبے تلاش کر پائیں اور تعاون کے ذریعے اپنی اپنی متعلقہ طاقتوں کو بڑھائیں، تو ہم باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات استوار کر سکتے ہیں، اور یہ تعاون نہ صرف چین کی پائیدار ترقیاتی حکمت عملی کی حمایت کرے گا بلکہ جنوبی کوریا کی ترقیاتی حکمت عملی کو بھی فروغ دے گا۔ لی جے میونگ نے توقع ظاہر کی کہ جنوبی کوریا اور چین کے درمیان تعاون جنوبی کوریا کے لیےمواقع کا ایک بہت بڑا ” دروازہ” کھولے گا۔جنوبی کوریا کے صدر کا کہنا تھا کہ چینی صدرشی جن پھنگ ایک عظیم اور صاحبِ بصیرت رہنما ہیں جنہوں نے موجودہ پیچیدہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں ایک بڑے ملک کی حکمرانی کی انتہائی مضبوط صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
لی جے میونگ نے کہا کہ جنوبی کوریا اور چین کا جارحیت کے خلاف مزاحمت اور مل کر جدوجہد کرنے کا تاریخی تجربہ انمول ہے۔ دونوں ممالک کے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ہمیں مل کر مزید آگے بڑھنے کے امکانات کو مسلسل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ جنوبی کوریا تائیوان کے معاملے میں ایک چین کے اصول کا احترام کرنے کے اپنے موقف کو برقرار رکھے گا، جو چین کے مرکزی مفادات کا مرکز ہے۔ جنوبی کوریا کو چین کے ساتھ بقائے باہمی اور تعاون کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور فعال طور پر مشترکہ کامیابیوں کے امکانات تلاش کرنے چاہئیں ۔ اس کے لیے مزید مکالمے اور نئی شراکت داریوں کو مسلسل بڑھانے کی ضرورت ہے۔
