اسلام آباد(سب نیوز )سابق گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے خبردار کیا ہے کہ اگر آج بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مایوس ہوتی نوجوان نسل کی بازپرس میں تاریخ حکومتوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سیاست و اقتدار نہیں بلکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کے باعث بڑھتی ہوئی مایوسی اور منفی رجحانات ہیں، اس سے قبل کے وقت ختم ہو جائے اس سنگین مسئلے کے حل پر فوری توجہ دی جائے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے سوال کیا کہ آج نوجوان مایوسی کی دہلیز پر کھڑا ہے، حکومتیں خاموش کیوں ہیں ؟۔ سیاسی جماعتیں باہمی کشمکش، الزام تراشی اور جھوٹے دعوں میں مصروف ہونے کے باوجود اپنے لئے مراعات اور تنخواہوں میں اضافے کے لئے ایک ہوجاتی ہیں ہیں لیکن تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں محض 108 آسامیوں کے لیے ایک لاکھ سے زائد درخواستیں اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں نوجوانوں کو باعزت روزگار دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ محض اعداد و شمار نہیں، یہ ایک پوری نسل کی بے بسی کی چیخ ہے۔اس سے بھی زیادہ خطرناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قابل، ہنرمند اور باصلاحیت نوجوان گھر بار بیچ کر بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دے رہا ہے۔ جب ریاست اپنے نوجوان کو امید نہ دے سکے تو وہ سرحدوں سے باہر مستقبل تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ برین ڈرین نہیں، یہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی مکمل ناکامی کا اعلان ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اگر ہم نے سیاسی انا، اقتدار کی جنگ اور کھوکھلے نعروں سے نکل کر سنجیدہ فیصلے نہ کیے تو یہ مایوسی احتجاج میں، احتجاج انتشار میں اور انتشار قومی نقصان میں بدل سکتا ہے۔ اس کے نتائج کی ذمہ داری صرف حکومتوں پر نہیں بلکہ تمام سیاسی قوتوں اور ارکان پارلمان پر عائد ہوگی۔ نوجوانوں کو اس ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار دینے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کے خاتمے کو قومی ایمرجنسی قرار دیا جائے، صنعتی پالیسیاں نرم اور عملی بنائی جائیں،انڈسٹریلائزیشن اور سرمایہ کاری کو فوری فروغ دیا جائے، اور تعلیم یافتہ نوجوان کو ملک چھوڑنے کے بجائے ملک بنانے اور ریاست سے جوڑنیکے لئے موثر اقدامات اٹھانے ہونگے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اب وقت ختم ہو رہا ہے۔ اگر آج نوجوان کا ہاتھ تھامنے کے بجائے آنکھیں بند رکھی گئیں تو کل یہ سوال تاریخ ہم سب سے پوچھے گی کہ جب ایک نسل مایوس ہو رہی تھی، تب حکومتیں کہاں تھیں؟سابق گورنر نے مقتدر حلقوں سے بھی مطالبہ کیا کہ حکومتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ نوجوانوں کے لئے موثر اور دیر پا
