Wednesday, March 4, 2026
ہومتازہ ترینپاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی مسلح افواج کیخلاف پروپیگنڈا مہم کی شدید مذمت

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی مسلح افواج کیخلاف پروپیگنڈا مہم کی شدید مذمت

راولپنڈی(آئی پی ایس )پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (پیس)نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف بڑھتی ہوئی منظم پروپیگنڈا مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے یہ موقف صدر پیس، سابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے راولپنڈی پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار کیا ،اس موقع پر وائس ایڈمرل عبدالعلیم، کموڈور ارشد محمود خان، بریگیڈیئر طارق محمود، بریگیڈیئر آصف ہارون، چیف آرگنائزر پیس عزیز احمد اعوان اور آفس سیکرٹری خالد محمود قاضی بھی موجود تھے

لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان اس وقت ہائبرڈ وار کا سامنا کر رہا ہے، جس کے تحت دشمن عناصر افغان سرزمین کو استعمال کر کے دہشت گرد حملے کروا رہے ہیں ان کے بقول یہ غیر اعلانیہ جنگ بھارت کی اس حکمتِ عملی کا تسلسل ہے جو وہ 1965 کی جنگ کے بعد آپریشن سندور کی شکل میں جاری رکھنے کا اعلان کر چکا تھا انہوں نے کہا کہ بھارتی ایجنسیاں گمنام دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہیں جبکہ انہیں افغان طالبان کی سرپرستی بھی حاصل ہے پیس نے پاک فوج کے افسران و جوانوں کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے ہر حملے کاموثر جواب دیا جا رہا ہی لیفٹیننٹ جنرل عبدالقئوم نے پروپیگنڈا وار کو دشمن کا دوسرا بڑا ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر مسلح افواج اور بالخصوص چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نشانہ بنانے کی منظم کوشش جاری ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے اندر بعض سیاسی عناصر اس بیانیے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیںانہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنما اور ان کے اندر و باہر موجود روگ عناصر بھارتی پروپیگنڈا کو تقویت دیتے ہوئے قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں پیس نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے صدر پیس نے کہا کہ قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قائداعظم محمد علی جناح کے اصولاتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم پر عمل ضروری ہے

انہوں نے سیاسی قیادت، میڈیا، ریاستی اداروں اور عوام پر زور دیا کہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے ،علاقائی معاشی روابط پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل عبدالقئوم نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے کرغیز صدر ساڈیر ژاپروف کو پاکستانی بندرگاہیں استعمال کرنے کی پیشکش کو سراہا اور کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ممالک کے لیے بڑے تجارتی راستے فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے افغان طالبان کو دہشت گرد گروہوں کو غیر مسلح اور غیر متحرک کرنے میں مکمل تعاون کرنا ہوگا انہوں نے روس اور بھارت کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون پر بھی تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر ایس یو 57طیاروں اور اضافی ایس 400نظام کی ممکنہ فراہمی کو خطے میں اسلحے کی دوڑ اور بھارت کی بالادستی کے عزائم کے لیے خطرناک قرار دیاپیس نے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے مجوزہ جائزے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا دفاعی ضروریات، قرضوں کی ادائیگی، ترقیاتی حکمتِ عملی اور موسمیاتی مسائل جیسے قومی بوجھ میں تمام صوبوں کو منصفانہ طور پر شریک ہونا چاہیے پریس کانفرنس کے اختتام پر پیس کی قیادت نے ترقی، سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔