ہومپاکستاناب ٹرمپ کہاں ہے جو کہتا تھا میں نے غزہ میں جنگ بند کرائی، مولانا فضل الرحمان

اب ٹرمپ کہاں ہے جو کہتا تھا میں نے غزہ میں جنگ بند کرائی، مولانا فضل الرحمان

چنیوٹ (آئی پی ایس )جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب ڈونلڈ ٹرمپ کہاں ہے جو کہتا تھا میں نے غزہ میں جنگ بند کرائی، ہم ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے کسی فارمولے کو نہیں مانتے، جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی بمباری سے فلسطینی شہید ہو رہے ہیں، فلسطین کی آزادی امت مسلمہ کی منزل ہونی چاہئے،افغان مسئلہ طاقت کے ذریعے حل نہیں کرنا چاہیے، ہم سی پیک پر چین کا اعتماد کھو بیٹھے۔

پنجاب کے شہر چنیوٹ میں جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور ہم دو برادر اسلامی ملک ہیں۔ اور سرحد کے آر پار ایک ہی قوم بستی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے ہم چین کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔ امریکہ اور مغرب کے دبا پر سی پیک روک دیا گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری شکایت عمران خان سے تھی اور وہی کام انہوں نے کیا۔ جنرل مشرف کے دور میں افغانستان کا مسئلہ بگڑا۔ اور ہم ان کی لڑائیوں میں فریق بنے۔ ہم نے امریکیوں کو اڈے دیئے اور انہوں نے افغانوں پر بمباری کی۔ افغان عوام پرو انڈیا نہیں بلکہ پرو پاکستان ہیں۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے مسئلہ حل ہونا نہیں سوچنا چاہیئے۔ اور ہمیں افغانستان کی آزادی و خودمختاری پر بھی سمجھوتا نہیں کرنا چاہیئے۔ ہم کیوں پرو پاکستان افغان طبقے کو انڈیا کی گود میں پھینک رہے ہیں۔ ہماری طرف سے افغان وزرا کے دورے کیوں منسوخ کیے گئے۔ اور ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے تاکہ بڑی مشکل سے بچ سکیں۔

فلسطین اسرائیل جنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی سے فلسطینیوں کے ہاتھ باندھے گئے۔ اور اسرائیل کو بمباری کرنے کی چھوٹ دی گئی۔ ہم کیوں ٹرمپ کو نوبل امن انعام دلانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پہلی بار امریکا کی پاکستان کے بارے میں پالیسی تبدیل ہوئی۔ لیکن امریکا سے تعلقات کے لیے چین کی دوستی کی قربانی نہیں دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے ہم خطے میں تنہا ہو رہے ہیں۔ اور حکومت کسی بیرونی دبا کے تحت غلط اقدامات کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں عام آدمی اس وقت گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اور طاقت استعمال کرنی ہے تو افغانستان میں جا کر کریں۔ امام مساجد کے لیے 25 ہزار روپے مشاہرہ مسترد کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع انتظامی معاملہ ہے۔ اس پر بات نہیں کروں گا۔ جبکہ جماعتوں پر پابندیاں لگانے کے بجائے مذاکرات کیے جائیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔