کراچی (سب نیوز)اسٹیٹ بینک نے شرح سود 11فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،یہ چوتھا مسلسل اجلاس تھا جس میں مرکزی بینک نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ہے، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق فیصلہ پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ ،شرح سود کو برقرار رکھنے سے معیشت میں توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی،فیصلے کا مقصد اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا، افراط زر کی شرح پر قابو پانا ہے، سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا۔گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود کو برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا۔یاد رہے کہ مالیاتی اداروں کی سروے رپورٹ کے مطابق 85 فیصد شرکا نے شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اشارہ دیا تھا، 68فیصد شرکا نے رائے دی تھی کہ دسمبر 25 تک شرح سود کو 11 فیصد سے نہ بڑھایا جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 46فیصد شرکا نے سروے میں یہ بھی کہا کہ جون 2026 تک پالیسی ریٹ کم ہوکر 10 فیصد تک آنے کی توقع ہے، 27فی صد افراد نے جون 26میں پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں آنے کی امید کا بھی اظہار کیا تھا۔دوسری جانب رپورٹ میں کہا گیا کہ مالیاتی سال 26 میں اوسط مہنگائی کی شرح 6سے7 فیصد کے درمیان رہے گی، دسمبر 25 تک روپیہ، ڈالر کے مقابلے میں 282 سے 285 روپے کے درمیان رہے گا جب کہ گورنر سٹیٹ بینک رواں مالیاتی سال کی چوتھی مانیٹری پالیسی کا اعلان 15 دسمبر کو کریں گے۔
