پاکستان میں مون سون کا موسم ہمیشہ سے خوشگوار، فصلوں کی بہتری اور قدرتی خوبصورتی کا باعث سمجھا جاتا ہے، مگر حالیہ برسوں میں بدلتے موسمی رجحانات نے اس رحمت کو زحمت بنا دیا ہے۔ ہر سال مون سون کی بارشوں کے ساتھ تباہی کی خبریں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مون سون کا اسپیل ہے یا موسمیاتی تباہی کا نیا باب؟حالیہ تباہ کاریاں دیکھ کر تو یہ موسمیاتی تباہی کا نیا باب ہی لگ رہا ہے ۔
دو ہزار پچیس کا مون سون سیزن اپنے ساتھ نہ صرف شدید بارشیں لایا بلکہ کئی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، شہری سیلاب، بجلی کی طویل بندش اور انفراسٹرکچر کی تباہی بھی دیکھنے میں آئی۔کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور ،گلگت،کے پی کے اور دیگر بڑے شہروں میں گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں ہیں ۔اسلام آباد جیسے ماڈل سٹی میں بھی سیلاب کی تباہ کاریاں اسوقت زور پکڑ رہی ہیں ۔اب تک مون سون کے تین اسپیل گزر چکے ہیں جن میں سے تیسرا اسپیل شدید تھا اور پنڈی میں متعدد علاقے زیر آب آگیے ،اب چوتھے اسپیل نے شروع ہوتے ہی تباہی مچا دی ہے پہلے اسلام آباد کے ماڈل ولیج سید پور میں نالہ بپھرا اور متعدد گاڑیاں اپنے ساتھ بہا لے گیا انفراسٹرکچر الگ متاثر ہوا اگلے ہی دن اسلام آباد کی سوسائٹئ ڈی ایچ اے میں باپ بیٹئ برساتی نالے کی نظر ہو گئے مسلسل دس گھنٹے ریسکیو آپریشن کے بعد بھی کچھ پتہ نہ لگ سکا جبکہ محکمہ موسمیات نے مزید بھی بارش کی پیش گوئی کر رکھی ہے ۔
مون سون کا حالیہ اسپیل صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ شمالی علاقہ جات، بلوچستان اور اندرونِ سندھ کے کئی علاقے بھی شدید متاثر ہوئے۔ گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکیں بند ہوئیں، جس سے سیاح اور مقامی افراد پھنس کر رہ گئے۔ بلوچستان میں بارشوں سے کئی دیہات صفحۂ ہستی سے مٹنے کے قریب آ گئے۔
ہر سال مون سون اپنے ساتھ انفراسٹرکچر،سمیت کئی جانیں لے جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب جاگیں گے ؟اور کب ایسے اقدامات کریں گے جو ہمارے بچاؤ کا سبب بنیں ؟ہمیشہ کی طرح میں پھر سے کہوں گی کہ شجرکاری مہم کو تیز تر کرنا ہوگا ورنہ آنے والے کچھ سالوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ریڈ الرٹ میں شامل ہو گا ۔
مون سون کی بارش اگر قدرت کی رحمت ہے تو ہماری غفلت سے یہ ایک بدترین آفت بھی بن سکتی ہے۔ ؟ کیا ہم ہر سال کی تباہی کو “قدرتی آفت” کہہ کر جان چھڑاتے رہیں گے یا اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے کوئی مؤثر حل نکالیں گے؟صرف حکومت کو قصوروار ٹھہرانا کافی نہیں۔ عام شہریوں کا رویہ بھی اس تباہی میں برابر کا شریک ہے۔ پلاسٹک ویسٹ، گٹر بند ہونے کی وجوہات، نالوں میں کوڑا پھینکنا—یہ سب ایسے عوامل ہیں جو بارش کے بعد صورتحال کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔
