Thursday, March 19, 2026
ہومٹاپ سٹوریپاکستان کرکٹ بورڈ میں اربوں روپوں کے گھپلوں کا انکشاف،محسن نقوی بھی زد میں آسکتے ہیں؟

پاکستان کرکٹ بورڈ میں اربوں روپوں کے گھپلوں کا انکشاف،محسن نقوی بھی زد میں آسکتے ہیں؟

اسلام آباد (آئی پی ایس) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مالی سال 2024-23 کی آڈٹ رپورٹ میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں 6 ارب روپے سے زائد کی غیرقانونی ادائیگیاں، مشتبہ تقرریاں، اور شفافیت سے محروم ٹھیکے شامل ہیں۔

سینیئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق آڈٹ میں پی سی بی کے مالی معاملات، گورننس، شفافیت اور کنٹرول سسٹمز پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کو دی گئی بے جا مراعات، اہلیت کے بغیر کی گئی تقرریاں، اور قواعد و ضوابط کے برعکس ٹھیکوں کی تفصیلات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی سی بی کو فروری 2024 سے جون 2024 کے دوران 4.17 ملین روپے کی غیر مجاز ادائیگیاں کی گئیں، جن میں یوٹیلیٹی بلز، پیٹرول، اور رہائش کے اخراجات شامل ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ان ادائیگیوں کو غیر قانونی قرار دیا کیونکہ چیئرمین اس وقت وفاقی وزیر داخلہ بھی تھے اور ان مراعات کا وہ قانوناً پہلے سے مستحق تھے۔

پی سی بی نے جواب دیا کہ یہ ادائیگیاں بائی لاز کے مطابق جائز ہیں، لیکن آڈٹ نے مؤقف مسترد کرتے ہوئے رقم کی واپسی اور ریکارڈ کی تصدیق کی ہدایت کی۔

ڈائریکٹر میڈیا کی مشتبہ تقرری
اکتوبر 2023 میں پی سی بی نے 9 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ڈائریکٹر میڈیا کو 2 سال کے لیے تعینات کیا۔ آڈٹ نے انکشاف کیا کہ درخواست، تقرری، معاہدے پر دستخط، اور دفتر میں شمولیت سب کچھ ایک ہی دن (2 اکتوبر 2023) کو ہوا، جس پر مکمل تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی سی بی نے 63.39 ملین روپے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھانے کے اخراجات کی مد میں ادا کیے۔

پی سی بی کا مؤقف تھا کہ بین الاقوامی ٹیموں کو VVIP سکیورٹی دی گئی جس کے لیے بھاری پولیس نفری تعینات کی گئی، تاہم آڈٹ نے جواب مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق کراچی میں انڈر-16 ریجنل کرکٹ کوچز کو اہلیت کے تقاضوں کے بغیر 5.4 ملین روپے کی ادائیگیوں کے ساتھ بھرتی کیا گیا۔ معاملے کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی ہدایت دی گئی۔

پی سی بی نے 120,000 ڈالر مالیت کا ٹکٹنگ کنٹریکٹ بغیر اوپن بولی کے الاٹ کیا، جسے آڈٹ نے قواعد کے منافی قرار دیا۔

میچ آفیشلز کو زائد ادائیگیاں
آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ میچ فیس کی مد میں 3.8 ملین روپے زائد ادا کیے گئے، جسے غیر قانونی قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 22.5 ملین روپے کوسٹرز کی غیر ضروری خدمات پر خرچ کیے گئے، جو ضیاع قرار دیے گئے۔

پنجاب حکومت کی فراہم کردہ بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے 19.8 ملین روپے کا ڈیزل خریدا گیا، جو آڈٹ کے مطابق پی سی بی کی ذمہ داری نہ تھی۔

رپورٹ کے مطابق 198 ملین روپے مالیت کا سفر سے متعلق ٹھیکہ بغیر کسی اوپن مقابلے کے دیا گیا، جس پر اعتراض اٹھایا گیا۔

آڈٹ کے مطابق میڈیا رائٹس ریزرو پرائس سے کم نرخ پر فروخت کیے گئے، جس سے پی سی بی کو 439.9 ملین روپے کا نقصان ہوا۔

ایک دفتر کے لیے 3.9 ملین روپے کا کرایہ جعلی لیز ایگریمنٹ کے ذریعے ادا کیا گیا، جسے آڈٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔

بین الاقوامی نشریاتی حقوق بغیر اوپن بولی کے 99,999 ڈالر (تقریباً 27.4 ملین روپے) میں الاٹ کیے گئے۔

پی سی بی کی جانب سے 5.3 ارب روپے کی اسپانسرشپ کی رقم تاحال وصول نہیں کی جا سکی، جو مالی بدانتظامی کی بڑی مثال ہے۔

رپورٹ کے مطابق پی سی بی کے موجودہ ڈائریکٹر میڈیا نے کہا کہ یہ تمام معاملات موجودہ چیئرمین محسن نقوی کے دور سے پہلے کے ہیں، اور ان معاملات میں سابق چیئرمینز سے مؤقف لینا ضروری ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔