تحریر: سدرہ انیس
پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے، جہاں کی خواتین ملک کی معاشرتی و معاشی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً 63 فیصد دیہی علاقوں میں آباد ہے، اور ان میں خواتین تقریباً 49 سے 50 فیصد ہیں۔ یعنی ملک کی کل خواتین کا ایک بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے، جو کہ تقریباً 4 سے 5 کروڑ خواتین پر مشتمل ہے۔ یہ خواتین نہ صرف گھریلو ذمے داریاں نبھاتی ہیں بلکہ زراعت، مویشی پالنے، دستکاری اور دیگر شعبوں میں بھی بھرپور حصہ لیتی ہیں۔
تاہم، ان کی زندگی کئی طرح کے چیلنجز سے دوچار ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی میں دیہی خواتین کو شدید محرومی کا سامنا ہے۔ بہت سی خواتین تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں کیونکہ ان کے علاقوں میں اسکول یا تو موجود نہیں ہوتے یا ان تک رسائی مشکل ہوتی ہے۔ صحت کی سہولیات کی کمی، خاص طور پر زچگی کے دوران، ان کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
معاشی طور پر دیہی خواتین عموماً غیر رسمی شعبے میں کام کرتی ہیں اور انہیں ان کی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔ وہ کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں لیکن ان کی خدمات کو عموماً تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ان کے پاس زمین کی ملکیت، مالی آزادی یا فیصلہ سازی میں شرکت کے مواقع بھی بہت محدود ہوتے ہیں۔
معاشرتی سطح پر بھی یہ خواتین صنفی امتیاز، فرسودہ رسم و رواج، اور گھریلو جبر کا شکار ہوتی ہیں۔ ان کی آزادی محدود ہوتی ہے اور انہیں اکثر مردوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ کچھ بہتری آئی ہے اور بعض سرکاری و غیر سرکاری ادارے ان کے مسائل پر کام کر رہے ہیں، لیکن ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
دیہی خواتین کی ترقی، تعلیم، صحت، اور معاشی خودمختاری میں مضمر ہے۔ اگر ریاست اور معاشرہ ان کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے تو نہ صرف ان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ پاکستان کی مجموعی ترقی میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ دیہی خواتین کی فلاح و بہبود صرف ان کا بنیادی حق ہی نہیں بلکہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بھی ہے۔
