رباط : مراکش کی پارلیمنٹ نے چیئرمین سینیٹ آف پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے اعزاز میں ایک پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے اور پارلیمانی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
پاکستانی وفد میں سینیٹر دوست علی جیسر (پاکستان پیپلز پارٹی)، سینیٹر سعدیہ عباسی (مسلم لیگ ن) اور سینیٹر خالدہ عطیب (متحدہ قومی موومنٹ) شامل تھے۔ ظہرانے کے دوران مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر بامعنی تبادلہ خیال کیا اور عالمی و علاقائی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا۔
تیسرے ساؤتھ پارلیمانی ڈائیلاگ فورم سے خطاب
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مراکش میں منعقدہ تیسرے ساؤتھ پارلیمانی ڈائیلاگ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل ساؤتھ اپنے وسیع قدرتی وسائل اور انسانی سرمائے کے باعث عالمی ترقیاتی ایجنڈے کی تشکیل نو میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک محلِ وقوع اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور چین کو ملانے والے خطے میں ایک منفرد حیثیت دیتا ہے، جو علاقائی روابط کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ترقی، موسمیاتی چیلنجز اور سماجی تحفظ
یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقتصادی ترقی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، جامع ترقی کو فروغ دینے اور کلائمیٹ فائنانس تک منصفانہ رسائی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے “بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” کا حوالہ دیتے ہوئے اسے پاکستان کا کامیاب سماجی تحفظ ماڈل قرار دیا، جو غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
علاقائی یکجہتی اور پارلیمانی تعاون پر زور
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ غربت، خوراک کے تحفظ، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی یکجہتی، ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساؤتھ تعاون کو مضبوط بنانا عالمی نظام کی نفی نہیں بلکہ اس کی بہتری کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے بین الپارلیمانی نیٹ ورکس کی مضبوطی، جامع قانون سازی اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کے لیے باہمی تعاون اور تبادلہ پروگراموں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
اختتام پر انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے گلوبل ساؤتھ دنیا کو ایک زیادہ منصفانہ، مساوات پر مبنی اور پائیدار راستے پر گامزن کر سکتا ہے۔
