لاہور (آئی پی ایس )وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے دعوی کیا ہے کہ چولستان کینالز کے منصوبے پر سندھ میں صرف سیاست ہورہی ہے، منصوبے کی صدر سے منظوری ڈاکیومنٹیڈ ہے، اس پر ان کے دستخط ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمی بخاری کا کہنا تھاکہ بلاول کی باتوں کا جواب نہیں دینا چاہتی، کینال منصوبے کا حل جلسوں یا میڈیا پر بیان بازی سے نہیں نکل سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوئی لڑائی نہیں لیکن وہ گولا باری کرتے رہتے ہیں۔
عظمی بخاری نے خیبر پختونخوا حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ صوبے سے کرپشن کی داستانیں سامنے آرہی ہیں، خیبر پختونخوا والے پنشن فنڈ نہیں چھوڑتے۔ان کا کہنا تھاکہ گنڈا پور نے خود کہا 75 کروڑ روپے پارٹی پر لگا چکے ہیں، گنڈاپور کی اپنی جماعت کہہ رہی ہے وہ کرپٹ ہیں ، چترال میں قومی جنگلات میں 866 کروڑ، پنشن فنڈ میں 36 ارب کی کرپشن سامنے آئی۔
وزیر اطلاعات پنجاب کا مزید کہنا تھاکہ کے پی محکمہ صحت نے 2 کروڑ 80 لاکھ روپے کے دستانیخریدے لیکن اسپتالوں میں موجود نہیں۔دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کینالز کی منظوری سے متعلق میٹنگ کے منٹس کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ منٹس میں اپروول کا لفظ کہیں نہیں ہے۔
انہوں نے عظمی بخاری کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ کے بیان پر افسوس ہوا، کیا آپ کو آئین پڑھنا آتا ہے؟ آپ کا کوئی وفاق سے مسئلہ ہے تو گھر پر حل کریں ، آئین میں کہاں لکھا ہے کہ صدر منظوری دیں گے؟ پیپلز پارٹی کینالز کے مسئلے پر سیاست نہیں کررہی، یہ پنجاب حکومت کا ایجنڈا ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا وفاق سے اختلاف ہو۔
ادھر دریائے سندھ سے مجوزہ 6 نہریں نکالنے کے منصوبے کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں آج بھی احتجاج کیا گیا اور ریلیاں نکالی گئیں۔دریائے سندھ بچا تحریک کے بیداری مارچ کے شرکا نے نوابشاہ کے علاقے سکرنڈ سے حیدرآباد تک ریلی نکالی جبکہ نوشہرو فیروز میں سول سوسائٹی کی جانب سیاحتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مظاہرین کاکہناتھاکہ نئی نہریں بننے سے سرسبز سندھ تباہ ہوجائیگا۔نہری منصوبیکیخلاف میرپورخاص پریس کلب اور دادو میں بھی دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے منصوبے پراحتجاج اور ریلی نکالی گئی۔