تحریر تنویرالسلام
ماں محبت، شفقت اور قربانی کی مکمل استعارہ ہے۔ وہ رہنمائی، تحفظ اور صبر کی سب سے بڑی علامت ہے، جو اپنی اولاد کے لیے ہر لمحہ اپنی خواہشات کو قربان کر دیتی ہے۔ اس کی محبت میں بے پناہ طاقت ہوتی ہے، جو ہر مشکل کو آسان بناتی ہے اور زندگی کی ہر پریشانی کو مٹاتی ہے۔
ماں — ایک ایسا مقدس رشتہ، جس کی گود جنت کی پہلی جھلک ہوتی ہے، جس کی محبت بے غرض اور جس کی دعا ہر طوفان کے آگے ایک مضبوط حصار۔ ماں وہ ہستی ہے جس کی آغوش میں دنیا کا سب سے محفوظ گوشہ ہوتا ہے، جس کی نظر سے پہلے ہی اولاد کا درد محسوس ہو جاتا ہے، اور جس کے لمس میں ہر دکھ کا درماں پوشیدہ ہوتا ہے۔ وہ ہستی جو خود بھوکی رہ کر اپنی اولاد کو کھلاتی ہے، جو راتوں کو جاگ کر سکون کے گیت گنگناتی ہے، اور جو اپنی ہستی کو مٹا کر اولاد کے لیے جینے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
میری ماں—میری جنت، میری رہنما، میرے رازوں کی امین، میری سب سے قیمتی دولت۔ وہ جن کی دعائیں میرا سب سے مضبوط سہارا تھیں، جن کا لمس میری تسکین کا ذریعہ تھا، جن کی آغوش میرے لیے جنت کا عکس تھی، آج وہ سب کچھ محض یادوں میں سمٹ چکا ہے۔ وہ چہرہ جو ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا تھا، اب یادوں کی دھند میں کھو چکا ہے۔ وہ آواز جو میرے دل کی دھڑکن تھی، جو میرے اضطراب کو سکون بخشتی تھی، ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی ہے۔
کل تک وہ میری دنیا کا سایہ تھیں، اور آج میں اس بے رحم دھوپ میں تنہا کھڑا ہوں۔ ان کے قدموں کی خاک چومنے کی حسرت ایک خواب بن چکی ہے، ان کی بانہوں کی گرمی اب صرف خیالوں میں محسوس ہوتی ہے۔ وہ روشنی جو میرے راستے کو منور کرتی تھی، وہ چراغ جو ہر اندھیرے میں امید کی کرن تھا، وہ ہمیشہ کے لیے بجھ چکا ہے۔
آج، ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد میری پہلی عید تھی—وہ عید، جس کا ہر لمحہ پہلے ان کی محبت سے مہکتا تھا، اب ایک گہرے سناٹے میں ڈوب چکا ہے۔ خوشیوں کی گہماگہمی تھی، مگر میرے دل میں ایک وحشت سی بسی ہوئی تھی۔ ہر طرف چراغاں تھا، مگر میری دنیا اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی، مگر میرے لب خاموشی کی مہر سے بند تھے۔ میں عید کے دن بھی تنہا تھا، کیونکہ میری سب سے بڑی خوشی، میری ماں، اس دنیا سے چل بسی تھیں۔
جب لوگ عید پر اپنی ماؤں کے قدموں کو چوم رہے تھے، ان کی دعائیں لے رہے تھے، اور جو اپنی ماؤں کو کھو چکے تھے، وہ ان کی قبروں پر جا کر اشک نچھاور کر رہے تھے، میں ان خوش نصیبوں میں بھی شامل نہیں ہو سکا۔ بس میں بار بار اپنے کمرے میں جاکر ماں کے پھیرن کو پکڑ کر اپنی آنکھوں پر رکھ کر ذکر و قطار روتا رہا۔ میں اور کر بھی کیا کرسکتا تھا۔ یہ غم، یہ خلا، یہ تڑپ میری روح میں ایک گہری دراڑ کی مانند ہمیشہ کے لیے ثبت ہو چکی ہے۔
ماں! تمہاری دعاؤں کے بغیر یہ خوشی کیسی؟ تمہاری مسکراہٹ کے بغیر یہ دنیا کیسی؟ تمہاری محبت کی روشنی کے بغیر یہ عید کی چمک بھی بے رنگ ہو گئی ہے۔ تمہاری یادوں میں کھو کر، تمہاری باتوں کو سوچ کر، تمہاری دعاؤں کی خوشبو کو محسوس کر کے میں نے یہ دن گزارا، مگر سب بے معنی محسوس ہو رہا تھا، کیونکہ تم میرے ساتھ نہیں تھیں۔
زندگی کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ جو چلا جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ مگر جو دل میں بسیرا کر لے، وہ کبھی جدا نہیں ہوتا۔ ماں! تمہاری محبت میرے دل کی دھڑکنوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی، تمہاری یادیں میری روح میں ہمیشہ مہکتی رہیں گی، اور تمہاری دعائیں ہمیشہ میری راہ کا چراغ بن کر جلتی رہیں گی۔
ماں! تم ہمیشہ میری یادوں میں زندہ رہوگی۔میری دعاؤں کا حصہ بن کر اور میری روح کی دھڑکنوں میں ہمیشہ گونجتی رہوگی۔ تمہاری جدائی کا دکھ ہر سانس میں بساہے مگر تمہاری محبت میری رگوں میں ہمیشہ رواں رہے گی۔
ماں! میرا دل تمہیں ہمیشہ پکارے گا، اور میں جانتا ہوں کہ میری صدائیں تم تک ضرور پہنچیں گی… کیونکہ ماں اور اولاد کے درمیان کبھی فاصلے نہیں ہوتے، اور نہ ہی ہوں گے۔ کیونکہ ماں کی محبت کی مثال دے کر میرے حی و قیوم رب نے اپنی بے پناہ محبت کو سمجھایا ہے۔
یا اللہ! تمام ماؤں کو سلامت و تندرست رکھ، اور جو اس دنیا سے جا چکی ہیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرما۔ آمین۔