تحریر: عنایت اللہ
@HParst
اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے بے شمار انبیاء علیہم السلام کو بھیجا۔ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کو دنیا میں بھیجا گیا لیکن جن انبیاء علیہم السلام کو قرآن مجید میں اپنی آخری امت کے ساتھ تعارف کے لیے چنا اور ان کے واقعات کو ہماری رہنمائی کے لیے قرآن مجید فرقان حمید میں فرمایا
ان میں سرفہرست “آدم علیہ السلام” ہیں جنھیں بنی آدم کا جد امجد کہا جاتا ہے
ان کے بعد “ادریس علیہ السلام” کا ذکر آتا ہے
ان کے بعد “نوح علیہ السلام” جنہیں آدم ثانی کا درجہ بھی حاصل ہے
حضرت آدم علیہ السلام کے بعد انھوں نے عمر دراز پاہی۔
پھر “ھود علیہ وسلم”
اور پھر “صالح علیہ السلام” کا ذکر آتا ہے
پھر میرے آقا علیہ السلام کے جد امجد اور رب العرش العظیم کے خلیل “حضرت ابراہیم علیہ وسلم کا زکر قرآن مجید میں آتا ہے اور جن پر خاص عنایت ہوہی کہ رب تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈا ہونے کا حکم فرمایا۔ اور یہ واقعہ کلام اللّٰہ میں ذکر کر کے ہمارے لیے غور و فکر کے راستے کھولے
“حضرت لوط علیہ السلام” کہ جن کی قوم غیر فطری لت میں پڑ گئی اور پھر مالک دو جہاں نے اس قوم پر عذاب نازل فرمایا
“حضرت اسماعیل علیہ السلام” کے جنھوں نے فرماں برداری کے کمال کو پایا اپنے والد اور خالق حقیقی کے حکم کی بجا آوری میں اف تک نہ کی
“حضرت اسحاق علیہ السلام” ان کی نسل سے زیادہ انبیاء علیہم السلام تشریف لاۓ اور اہل یہود اسی بنیاد پر مسلمانوں سے بخل رکھتے ہیں کہ آقا علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے تھے
حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دونوں حضرت ابراہیم علیہ وسلم کے صاحبزادے تھے
“حضرت یعقوب علیہ السلام” کا زکر بھی قرآن مجید میں ہماری رہنمائی کے لیے آیا
پھر “یوسف علیہ السلام” جن کے حسن کے چرچے قرآن مجید نے بیان فرمائےاور رہتی دنیا تک ان کے حسن و شباب کو یاد رکھا جائے گا
“ایوب علیہ السلام”جن کے صبر کی مثال قرآن مجید نے بیان فرمائی
“شعیب علیہ السلام”کا تذکرہ بھی قرآن مجید میں آیا
“موسی علیہ وسلم اور “ہارون علیہ السلام دونوں سگے بھائی اور رب العزت کے برگزیدہ نبی تھے
“ذوالکفل علیہ السلام” اور “داؤد علیہ السلام” کا تذکرہ فرمایا
پھر “سلیمان علیہ السلام”جنھوں نے دنیا پر موجود ہر چیز پر رب کائنات کے حکم سےحکمرانی فرماہی
“الیاس علیہ السلام” ، “الیسع علیہ السلام”
“یونس علیہ السلام” ،” زکریا علیہ السلام”, “یحیٰی علیہ وسلم”
“عیسیٰ علیہ السلام”
اور پھر نبی آخر الزماں حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی کائنات کی ہدایت کے لیے بھیج کر انبیاء علیہم السلام کو بھیجنے کا سلسلہ موقوف کر دیا
