تحریر : حمیرا ( مروہ صدیقی)
@SiddiquiMarwah
دنیا کے ہر زبان میں خطوط یا مکاتیب باقاعدہ ایک صنف کا درجہ رکھتے ہیں ، مشاہیر کے خطوط تاریخی اہمیت ہی کے حامل نہیں ہوتے بلکہ ان میں سے بعض تاریخ کا مرجع اور ماخذ بھی بنتے ہیں۔ اسی طرح زبان کی تدریسی اور نصاب میں خط نویسی کی تعلیم بھی شامل ہے ، کم از کم ایک سوال امتحانی پرچے میں لازمی ہوتاہے۔
مفکرین ، مصلحین ، قائدین ، فلاسفہ ، علماء ، ادباء ، شعراء کے خطوط ان کی زندگی میں نہیں توان کی وفات کے بعد ان کے متاثرین و معتقدین جمع کرکے شائع کرتے ہیں۔
یہ روایت آج کی نہیں بہت قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے ۔ حتیٰ کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اپنے وقت کے حکمرانوں کو بسلسلہ تبلیغ جو نامہ ہائے مبارک ارسال فرمائے تھے، ان میں سے بعض ہو بہو اصل صورت میں مختلف عجائب گھروں میں موجود ہیں ۔ جن کی اصل محفوظ نہیں ان کے مضامین حدیث و تاریخ کی کتب میں لفظ بہ لفظ درج ہیں ۔ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کے تمام خطوظ کا مجموعہ کتابی شکل میں شائع ہوچکا
زیادہ دور نہیں جاتے ۔ ماضی قریب میں حضرت مجدد الف ثانی کے سیاسی مکتوبات ، غالب کے خطوط ، ابولکلام آزاد کی غبار خاطر اور شاعر مشرق کے مکاتیب اقبال ” وغیرہ سے اہل قلم واقف ہیں۔ ہاں خط کتابت کی ایک انوکھی مثال حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن رح اور مولانا عبید ﷲ سندھی سے منسوب ہے ۔
برطانوی سامراج کے خلاف جو تحریک ریشمی رومال کے نام سے مشہور ہے یہ بہی در اصل خفیہ زبان میں رومال میں کاڑھے گئے خطوط ہواکرتے تھے۔
غیرمسلم دنیا خصوصا مغربی یورپی زبان و ادب میں بھی سنا ہے کہ یہ صنف ( خط کتابت ) نہایت اہمیت کی حامل اور ترقی یافتہ ہے۔
ایک خصوصیت ایسی ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ عام طور پر نثر ہو نظم تصنیف ہو یا تالیف و ترجمہ ہر ایک طرح کی تصنع پایاجاتا ہے۔ اسے لکھنے والا سوچتا ہے لکھتا ہے کاٹتا پھر بناتا ہے لکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غرض کہ کتاب صاحب کتاب کی اصل شخصیت کو پوری طرح جیسا کہ وہ فی الواقع ہے ظاہر نہیں کرتی۔
اس کے برعکس خطوط میں بشرطیکہ وہ واقعی ضرورت کے تحت لکھے گئے ہوں ، کسی قسم کی منصوبہ بندی کا ان میں دخل نہ ہو یعنی لکھنے والے نے یہ سوچ کر نہ لکھے ہوں کہ میری زندگی میں یہ شائع نہ ہوسکے تو مرنے کے بعد کوئی شائع کردے گا۔ ایسے خطوط میں ایک طرف کی بے ساختگی پائی جاتی ہے۔ لکھنے والے کی شخصیت چھپی نہیں رہتی ، مزاج ، رجحان پوری طرح عیاں ہوتا ہے ، کوئی مصنوعی پردہ حائل نہیں رہتا۔
عالمی ادب کے بارے میں تو راقم کو معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں البتہ اردو سے تھوڑی سی واقفیت ہے اس کے مطابق ایسے ہی خطوط کو شہرت و دوام حاصل ہے ، ان میں سے بعض کا ابھی ذکر ہوا ہے۔
دنیا نے بڑی ترقی کرلی ہے۔ خط بمعنی چٹھی ، نامہ ، تحریر ، مکتوب ، رسالہ ، پیغام رسانی وتبادلہ خیالات و معلومات کا اولین معلوم و ذریعہ ہے ۔ خواہ انسانی قاصدوں کے ذریعے ہو یا پیغام بر کبوتروں کے ذریعے سے یا نقل و حمل کے جدید تیز رفتارذرائع موٹر ریل بحری و ہوائی جہازوں کی مدد لی جائے ۔
ان میں بنیادی عنصر اور قدرِ مشترک قرطاس و نقوش ( حروف ) بزریعہ قلم و روشنائی ہر جگہ موجود ہیں ۔ ( مشینی آلہ کتابت بہی قلم ہی ہے ) چھاپے کی ایجاد نے اس میں مزید سہولت پیدا کردی ہے۔
گزشتہ صدی میں پیغام رسانی کے لئے ایک ساتھ یا یکے بعد دیگرے کئی چیزیں آئیں مثلا ، ٹیلے گرام ، ٹیلیکس ، ٹیلے فون ، فیکس ، ای میل ، واٹس ایپ وغیرہ ایک نے نے دوسرے کی ضرورت کم کردی یا اہمیت ختم کرکے اس کی جگہ خود لے لی۔ ٹیلی گرام آج قصہ ماضی ہے اور ٹیلیکس ناپید چند سال پہلے تک فیکس کا بڑا چرچا تھا مگر انٹر نیٹ ای میل کمپیوٹر نے عام ہوکر اس کی افادیت محدود کردی ، ابھی بہت کچھ مزید آنے والا ہے اور بہت کچھ ختم ہونے والا بقول شاعر
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محوحیرت ہوں کہ دنیا کیا ہے کیا سے ہوجائے گی
مگر خط پیغام رسانی و تبادلہ ، اخبار و افکار و معلومات و خیالات انسانی کا اولین معلوم زریعہ آج بہی اپنی اصل صورت میں کسی تغیر کے بغیر جوں کا توں موجود ہے ۔
بے شک اس نے ترقی تو کی ہے ، سرعت کو بھی اپنایا ہے ، فاصلوں کو گھٹایا ہے ، لیکن بنیادی شکل میں کوئی تبدیلی گوارا نہ کی یعنی قرطاس و قلم کی حیثیت زندہ و جاوید ہے ۔
خطوط ۔۔۔ اہمیت و افادیت
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
