Thursday, February 12, 2026
ہومبریکنگ نیوزپی ٹی آئی نے سول نافرمانی کی تحریک کیوں شروع نہیں کی؟شوکت یوسفزئی نے وجہ بتا دی

پی ٹی آئی نے سول نافرمانی کی تحریک کیوں شروع نہیں کی؟شوکت یوسفزئی نے وجہ بتا دی

پشاور (آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے 16 دسمبر کی ڈیڈ لائن دیے جانے کے باوجود اب تک سول نافرمانی کی تحریک شروع نہ کرنے کی وجہ بتا دی۔ شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، پی ٹی آئی میں نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی کوئی اختلافات ہے۔ان کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد ہر کوئی باہر آکر پریس کانفرنس کرتا ہے، میرے خیال میں پارٹی کی طرف سے ہر کسی کی پریس کانفرنس پر پابندی ہونی چاہیے۔

سابق صوبائی وزیر کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد پارٹی کے مقرر کردہ افراد کو ہی میڈیا پر بیان دینا چاہیے، ہر شخص میڈیا پر بیان دیتا ہے جس سے کنفیوژن پیدا ہو جاتی ہے۔سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے سے متعلق سوال پر شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا پی ٹی آئی نے آج سول نافرمانی تحریک شروع نہ کرنیکا فیصلہ کیا ہے، سول نافرمانی کی تحریک بالکل شروع ہو جاتی اگر مذاکراتی کمیٹی نہ بنتی۔

ان کا کہنا تھا پارٹی قیادت نیبانی پی ٹی آئی کو درخواست کی کہ پہلیمذاکرات کا موقع دیاجائے، بدقسمتی سے حکومت کا رویہ انتہائی بچگانہ ہے، حکومت شاید سمجھ رہی ہے کہ پی ٹی آئی کمزور پڑگئی، اس لییمذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، چاہتے ہیں کہ ملک مزید مشکل میں نہ ہو لیکن حکومتی رویے نے مایوس کر دیا۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ مذاکرات کی وجہ سے سول نافرمانی کی تحریک کی تاریخ فائنل نہیں ہوئی تھی، مذاکرات نہیں ہوتیتو شاید بانی پی ٹی آئی کی طرف سے لائحہ عمل کا اعلان ہوجائے، لائحہ عمل سے ملک کو نقصان ہوگا تو ذمے داری حکومت پرعائد ہوگی، حکومت کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے، سنجیدہ مذاکرات کی بات کرے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی شوکت یوسفزئی نے ایک بیان میں کہا تھا مذاکرات پی ٹی آئی کی مجبوری نہیں حکومت کی مجبوری ہو سکتے ہیں، ہم پاکستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا پارٹی رہنماں نے بڑی مشکل سے عمران خان کو مذاکرات کے لیے آمادہ کیا ہے، اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو پی ٹی آئی مذاکرات ختم بھی کر سکتی ہے، مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں نقصان کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔