تحریر امبرین علی
دنیا بھر میں اسوقت موسمیاتی تبدیلیاں جس رفتار سے رونما ہو رہی ہیں ان تبدیلیوں نے ماہرین سمیت سبھی کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے اسلام آباد میں بھی اس متعلق آئے روز سیمینارز منعقد ہو رہے ہیں ،جن میں روز بروز موسمیاتی تبدیلیوں کا موضوع زیر بحث ہے ۔آج اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں “مقامی کمیونٹیوں کو مضبوط کرنا:موسمیاتی عمل، شمولیت، اور صنفی مساوات کے ذریعے اختیار دینا”کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی اسٹریٹیجک ڈائیلاگ منعقد ہوا۔

سرینا میں منعقدہ ڈائیلاگ میں موسمیاتی تبدیلیوں کو زیر بحث لایا گیا موسمیاتی تبدیلیوں کی اس تقریب کی میزبانی کینیڈا کے ہائی کمیشنز اور سرینا ہوٹل نے کی۔اس تقریب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، کینیڈا کے ہائیکمشنر اسکنلون نے کہا، “کینیڈا کی قومی سچائی اور مصالحت کے دن، یہ ڈائیلاگ مقامی اور کمزور کمیونٹیوں کی آوازوں اور رہنماؤں کو بلند کرنے کا ایک موقع تھا۔کینیڈا، اپنے ملک اور دنیا بھر میں، مقامی لوگوں کے ساتھ مصالحت کو فروغ دینے اور ان کے ساتھ شمولیت کی بنیاد پر کام کر رہا ہے، جس میں حقوق کی شناخت، احترام، تعاون اور شراکت شامل ہیں۔موسمیاتی بحران میں بھی ہم پاکستان کے ساتھ مل کر ایک پائیدار، لچکدار، اور منصفانہ مستقبل کی تعمیر میں مدد کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس موقع پر کینئڈین ہائی کمشنر نے کوپ انتیس پر بھی بات کی ۔کوپ انتیس جو کہ نومبر میں آزربائیجان کے دارالحکومت باکو بھی منعقد کی جا رہی ہے ،جب سب نیوز کی جانب سے اس کانفرنس سے متعلق میں نے کینیڈین ہائی کمشنر سے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کہا حکومت کام کر رہی ہے ذاتی طور پر انکا کوئی پلان تو نہیں مگر وہ پاکستان کو ہمئشہ کی طرح اس بار بھی اس کانفرنس میں نمایاں طور پر دیکھنا چاہتی ہیں۔ہم سفارت کاری میں مفاہمت کے نظریے کو لاگو کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔موسمیاتی تبدیلیاں اور موسم پاکستان پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔بہت ساری کمیونٹیز سیلابوں سے متاثر ہیں دو ہزار بائیس کے سیلاب کے بعد کینیڈا نے فوراً فنڈز جاری کیے ۔
سیرینا ہوٹلز اور کینیڈا کے ہائی کمیشن نے موسمیاتی مزاحمت اور سماجی و اقتصادی شمولیت کے باہمی تعلق کی تفہیم میں حصہ ڈالنے کا ارادہ کیاہی یہ یقینی بناتے ہوئے کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف کوئی کمیونٹی پیچھے نہ رہے۔
