Tuesday, January 27, 2026
ہومکالم وبلاگزحجاب مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے

حجاب مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے

تحریر۔۔۔شبانہ آیاز
عالمی یوم حجاب کے موقع پر مجھ سے سوال کیا گیا کہ کیا حجاب صرف عورتوں پر فرض ہے۔؟؟میرا انہیں جواب یہ تھا کہ حجاب کا تعلق پردے سے ہے جس کو شرم و حیا اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔حجاب کا لفظ پڑھتے ہی فورآ ہمارے ذہن میں خواتین کے پردے یا برقعے کا تصور آتا ہے۔حالانکہ حجاب صرف خواتین تک محدود نہیں ہے بلکہ حجاب ایک تہذیب ہے، حجاب نظروں میں، گفتگو میں، معاملات میں، رکھ رکھاو میں، لباس میں، رویوں میں، پرنٹ الیکٹرانک و سوشل میڈیا میں غرض پورے معاشرے کے کلچرمیں حجاب ضروری ہے۔ اسلام مرد وعورت دونوں کو حکم حجاب اور غص بصر یعنی نگاہ نیچی رکھنے اور بد نظری سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بدنظریہی بدکاری کے راستے کی پہلی سیڑھی ہے۔ انسان کی حیا ہی اس کے عزت و وقار کی نشانی ہے۔حجاب قدامت پسندی اور بنیاد پرستی کی علامت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی تطہیر و تعمیر سے تعلق رکھتا ہے جس کے لئے مرد و عورت دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔

بے حیائی اور بے حجابی کے نقصانات اج کے حالیہ واقعات میں مضمر ہیں۔اسلام نے ستر کی حدود سے مرد کو کبھی بھی مستثنی قرار نہیں دیا۔ غض بصر(بد نظری سے بچنے)کے احکامات عورت اور مرد دونوں ہی کے لیے ہیں اور معاشرے کو حیا و حجاب کی زندگی گزارنے کے لئے دئیے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ۖ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ جب تم حیا نہ کرو تو جو جی چاہے کرو۔” یعنی حیا جس میں نہیں وہ ہر برائی کر گزرتا ہے۔ بے ہودگی جس چیز میں بھی ہوگی ہے اسے عیب دار اور ناقص بنادے گی اور حیا جس چیز میں بھی ہوگی اسے خوبصورت اور کامل کردے گی۔ مغربی ممالک میں بے حیائی/ بے پردگی کی وجہ سے زنا حد درجہ عام ہے، ایک سروے کے مطابق 46 سیکنڈ میں ایک زنا بالجبر ہوتا ہے روزانہ کئی ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کا کوئی باپ ہی نہیں ہوتا۔پاکستان میں بھی گزشتہ سال کی بہ نسبت اس سال زنا بالجبر کے واقعات میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔پھر یہ سوال بھی اکٹر کیا جاتا ہے کہ حجاب معاشرے کی ترقی میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔؟؟ تو میرا جواب یہی ہے کہ جب معاشرے میں حیا کا چلن ہوگا ،عورت کام کی جگہوں پر خود کو محفوظ سمجھے گی تو وہ ملکی ترقی کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کرسکے گی۔ کسی مفکر نے کیا ہی بہترین عکاسی کی ہے کہ ایک پڑھے لکھے معاشرے کی بنیاد تعلیم یافتہ اور باحیا عورت ہوتی ہے۔

صحابیات اس کی اعلی مثال ہیں۔ جن کی جرات، بہادری اور ایمان کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ حضرت سمیہ کی جرات، حضرت صفیہ کی بہادری، حضرت عمارہ جیسا ایمانی جذبہ، حضرت خولہ جیسا حوصلہ، حضرت خدیجہ جیسی حکمت و تدبر، حضرت فاطمہ جیسا صبر، حضرت عائشہ جیسا ذہن اور تمام صحابیات جیسا پختہ ایمان اور اخلاق اگر ہماری خواتین میں پیدا ہوجائے تو معاشرے کی ہر پہلو سے بلندی یقینی ہے۔یہ کہاوت عام ہے کہ مرد اگر دیندار ہو تو دین گھر تک پہنچ جاتا ہے اور اگر عورت دیندار ہو تو دین نسلوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو عورت ایک عظیم معاشرے کو تشکیل دے سکتی ہے اور اس کے لئے سب سے اہم اور ضروری حصہ ہے اولاد کی صحیح تربیت ۔ کیونکہ معاشرہ انسانوں ہی سے بنتا ہے اور جب اس میں رہنے والے اچھی تربیت کے زیر اثر ہوں گے تو مضبوط کردار کے بھی حامل ہوں گے۔ عورت معاشرے کو کامیاب بنانے میں اس طرح تعاون کر سکتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی خاص طور پر لڑکوں کی نیک تربیت کرے۔مرد حیا دار ،وفادار اور عورت کے محافظ بنیں گے تو عورت جنسی بھیڑیوں سے محفوظ ہوگی۔بے حجابی کے اس وقت معاشرے میں تباہ کن اثرات نظر آرہے ہیں خلع و طلاق کی شرح بڑھ چکی ہے،زنا بالجبر اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔اس بے حجابی کے اثرات نے عورت کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔گھریلو شادی شدہ زندگیاں غیر ازدواجی تعلقات کے باعث متاثر ہورہی ہیں۔خواتین ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کا شکار ہورہی ہیں۔مردوں کی فرسٹریشن میں اضافہ کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ مرد عورت کو غیرت کے نام پر آسانی سے قتل کردیتا ہے۔قوانین کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے عورت ہی نشانہ پر ہے۔عورت اور مرد اپنی زندگیوں میں سکون چاہتے ہیں تو انہیں اسلام کے نظام حجاب کو اپنانا ہوگا۔دونوں کو نگاہ کی حفاظت اور بد نظری و بے حیائی سے خود کو بچانا ہوگا۔اسی صورت گھروں اور معاشرے میں امن و سکون قائم ہوگا۔وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جہاں امن اور سکون ہوتا ہے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔