ہومدنیاافغانستان سے 90 فیصد امریکی فوج کا انخلا مکمل،7فوجی اڈے افغان حکومت کے حوالے

افغانستان سے 90 فیصد امریکی فوج کا انخلا مکمل،7فوجی اڈے افغان حکومت کے حوالے

واشنگٹن (آئی پی ایس )امریکی سنٹرل کمان نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا جاری ہے، اب تک 90 فیصد سے زیادہ انخلا مکمل ہوچکا ہے۔ اورسات فوجی اڈے باضابطہ طور پر افغان وزارت دفاع کے حوالے کردیے گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریبا ایک ہزار سی۔17مال بردار طیاروں کے ذریعے فوجی سازو سامان افغانستان سے باہر منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ بہت سارے فوجی آلات ٹھکانے لگانے کے لیے ڈیفنس لاجسٹکس ایجنسی کے حوالے کیے گئے ہیں۔پنٹاگون کی طرف سے یہ اعلان امریکی صدر جو بائیڈن کے اس فیصلے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کو گیارہ ستمبر تک نکال لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیٹو کے دیگر رکن ممالک بھی امریکا کے ساتھ تال میل کرکے اپنی اپنی فوج کو بڑی تیزی سے افغانستان سے نکال رہے ہیں۔افغان حکام نے دعوی کیا ہے کہ امریکی فوج انہیں کوئی اطلاع دیے اور فوجی اڈے کا نیا افغان کمانڈر مقرر کیے بغیر ایئر بیس چھوڑ کر چلے گئے۔ امریکی فوج کے جانے کے کے دو گھنٹے سے زائد وقت کے بعد اس کا پتہ چلا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ایئرفیلڈ میں تقریبا پانچ ہزار قیدی بھی موجود ہیں جن میں سے بیشتر طالبان ہیں۔اس سے پہلے افغان کمانڈر جنرل میر اسد کوہستانی نے کہا تھا کہ امریکی فوج رات کی تاریکی میں بتیاں بجھا کر بگرام بیس سے واپس چلی گئی، افغان حکام کو بھی دو گھنٹے بعد پتہ چلا۔خیال رہے کہ امریکا نے القاعدہ کے خلاف جنگ کے لیے 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ امریکا نائن الیون کے دہشت گردانہ حملے کے لیے القاعدہ کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ امریکا نے افغانستان پر حملے کے بعد طالبان کو اقتدار سے معزول کر دیا تھا اور ملک کی حفاظت کے لیے افغان سکیورٹی فورسیز اور پولیس کو تربیت دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا نے اس بیس سالہ جنگ کے دوران بیس کھرب ڈالر خرچ کردیے اور اس کے 2312 فوجی مارے گئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔