غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے قاہرہ مذاکرات میں شرکت کے لیے وفد نہ بھیجنے کا اعلان کردیا ۔
عالمی میڈیا کے مطابق حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 2 جولائی کو طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ مصالحت کار امریکی صدر جو بائیڈن کے جنگ بندی ویژن اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں 2 جولائی کو ہونے والے مذاکرات میں طے ہونے والے نکات پر عملدرآمد کے لیے اپنا منصوبہ پیش کریں۔
حماس کا مزید کہنا تھا کہ مصالحت کار مذاکرات کے مزید ادوار پر زور دینے کے بجائے اسرائیل پر مذاکرات کے دوران طے پانے والے نکات پر عملدرآمد کیلئے زور ڈالیں۔ نئی تجاویز سے اسرائیل کو ہمارے لوگوں کے قتل عام کا بہانہ مل رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکا، مصر اور قطر کی جانب سے اسرائیل اور حماس کو 15 اگست کو قاہرہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کیلئے مذاکرات کے نئے دور کیلئے دعوت دی تھی۔ 7 اکتوبر2023 سے اب تک غزہ میں 40 ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی کی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
