اسلام آباد(سب نیوز )امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا ہے کہ اگر آپ کسی کو راحت نہیں دے سکتے تو تکلیف بھی نہ دیں،تکلیف صرف ہاتھ سے نہیں ،بلکہ آنکھ اور زبان سے بھی ہوتی ہے، احادیث مبارکہ میں کسی کو ایذا دینے والی نظر سے دیکھنے سے بھی منع کیا گیا ہے،مومن نرم ہو،سہل ہو،ٹھنڈا مزاج ہو،قرآن کریم میں ایسے مومنین کی تعریف کی گئی ہے جو آپس میں مہربان ہوتے ہیں لہذا مسلمان آپس میں مہربان اورشفقت محبت سے رہیں۔
امیر اہل سنت نے کہا کہ ہم نے کوئی ایسا اندازاختیار نہیں کرنا جس سے کسی مسلمان کا دل دکھے،امیر ہو،غریب ہو،فقیر ہو یا بادشاہ ہو ،دل سب کا ہے،کسی کا دل دکھانا نہیں ہے،ہم کسی کا دل خوش نہیں کرسکتے تو دل بھی نہ دکھائیں، فرائض کے بعد سب سے افضل عمل مسلمان کا دل خوش کرنا ہے،جائز طریقے سے مسلمان کا دل خوش کرنے کے مواقع تلاش کرنا چاہئے۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ دل میں چھپی ہوئی دشمنی کو کینہ کہتے ہیں اور وہ سینہ اچھا نہیں جس میں مسلمان کا کینہ چھپا ہو،اس کو دور کرنا چاہئے ،لوگوں کو خود سے بہتر تصور کریں اگر وہ عمر میں چھوٹا ہے تو یہ تصور کریں کہ میری عمر زیادہ اور اس کی عمر کم ہے اس لئے میرے گناہ زیادہ اس کے کم ہیں اور اگر وہ عمر میں بڑا ہے تو یہ سوچنا چاہئے کہ اس کی نیکیاں مجھ سے زیادہ ہیں اس کو نیکیاں کرنے کا موقع زیادہ ملا ہے۔
امیر اہل سنت نے کہا کہ آج لوگ زبان سے عاجزی کے الفاظ کہتے ہیں جبکہ عاجزی دل سے ہونا چاہئے ،خود کو حقیر فقیر کہنے میں حرج نہیں ہے ،دل میں عاجزی ہو پھر زبان سے الفاظ ادا ہوں اور اس میں ریاکاری کا بھی خدشہ نہیں تو حرج نہیں،اس معاملے میں بہت آزمائش ہے کہ جب بندہ عاجزی کے الفاظ بولتا ہے تو شیطان فورا اپنا کام کرتا ہے اور ریاکاری کی طرف لے جاتا ہے۔ دعا ہے اللہ پاک ہمیں اپنی رضا کیلئے عاجز ی و انکساری کرنے کی توفیق عطارفرمائے۔آمین
