اسلا م آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی کمیشن رپورٹ کے 49 بریف پوائنٹس منظر عام پر آگئے۔
کمیشن رپورٹ کی بریفنگ کے مطابق فیض آباد دھرنے میں ریاستی ادارہ یا شخصیت ملوث نہیں تھی،
سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے اعتراف کیا کہ حکومت نے خود آئی ایس آئی سے معاملہ حل کرانے کا کہا،
رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی نے حکومتی ہدایت پر مظاہرین کی قیادت سے رابطہ کرکے معاہدہ کروایا، جنرل فیض حمید نے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کی ہدایت پر معاہدے پر دستخط کئے،
کمیشن میں شاہد خاقان ، شہباز شریف ، احسن اقبال،آفتاب سلطان نے دھرنے میں کسی ادارے یا شخصیت کے ملوث نہ ہونے کا اعتراف کیا۔
رپورٹ کے مطابق فیض آباد دھرنے کا معاملہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم سے کھڑا ہوا، سابق سینٹر حافظ حمد اللہ نے امیدواروں کے فارم میں تبدیلی کا معاملہ اٹھایا، 18 اکتوبر 2017کو تحریک کا اعلان ہوا پنجاب میں شہباز حکومت نے مظاہرین کو اسلام آباد جانے سے نہیں روکا،
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر اسلام آباد پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایکشن لیا جس پر حالات خراب ہوئے ،
سول معاملے میں فوج کی مداخلت سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی ، معاملہ سول انتظامیہ اور آئی بی کے سپرد ہونا چاہئے تھا لیکن ان اعتماد کا فقدان تھا، کمیشن رپورٹ کے مطابق سینئر لیول پر کمزور کمانڈ اینڈ کنٹرول مشاہدے میں آیا،
سپریم کورٹ نے پندرہ نومبر 2023 کو معاملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا حکم دیا۔










