پشاور(سب نیوز )سنی اتحاد کونسل کے ارکان اسمبلی نے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس طلب کرنیکے بعد سینیٹ انتخابات سے قبل حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔ گورنر کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے بعد سنی اتحاد کونسل (پی ٹی آئی)کے ممبران اسمبلی نے سینیٹ انتخابات سیقبل حکمت عملی بنالی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی اراکین کورم کی نشاندہی کرکے اسمبلی کا اجلاس بار بار ملتوی کرسکتے ہیں۔اسمبلی اجلاس نہ ہونے پر مخصوص 24 نشستوں کے اراکین حلف نہیں اٹھا سکیں گے۔ ایوان میں سنی اتحاد کونسل کے91 اور اپوزیشن کے27 اراکین رہ جائیں گے۔
سینیٹ کی جنرل نشست پر 17 اراکین اسمبلی ایک سینیٹر منتخب کرسکتا ہے جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی نشست کے لیے اسکور 72 سے کم ہوکر 59 اراکین ہوجائیگا۔ سینیٹ میں خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی 4 سیٹیں اپوزیشن کے ہاتھ سے نکل جائیں گی اور سنی اتحاد کونسل 5 جنرل، خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی 2،2 نشستیں آسانی سیجیت جائے گی۔
ذرائع کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے 85 ایم پی ایز پر 5 جنرل نشستوں کو آسانی سے جیتا جاسکتا ہے۔سنی اتحاد کونسل نیسینیٹ کی چھٹی نشست جیتنے کے لیے حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت سنی اتحاد کونسل کے اراکین پہلی ترجیح اور دوسری ترجیح پر ووٹ دیں تو چھٹی نشست بھی جیت سکتے ہیں۔ اس حکمت عملی کیتحت اپوزیشن کو صرف ایک جنرل سیٹ ملنیکاامکان ہے اور اگر اپوزیشن تقسیم کا شکار ہوئی تو ایک سیٹ بھی ہاتھ سینکل سکتی ہے۔
