Wednesday, February 18, 2026
ہومتازہ ترینپاکستانی فارما انڈسٹری کی برآمدات 5 بلین ڈالر تک پہنچانے کی ذمہ داری سرمایہ کاری کونسل کے سپرد

پاکستانی فارما انڈسٹری کی برآمدات 5 بلین ڈالر تک پہنچانے کی ذمہ داری سرمایہ کاری کونسل کے سپرد

وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈ ریگولیشنز نے فارما پارک کی تعمیر میں بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنے اور پاکستانی فارما انڈسٹری کی برآمدات اگلے پانچ سالوں میں 5 بلین ڈالر تک پہنچانے کے لیے تمام اقدامات خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کے حوالے کردیے ہیں۔

نگراں وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ندیم جان نے ایک خصوصی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ حکومتِ پاکستان عوام کو صحت کی آسان اور بلاتعطل سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے صحت کے شعبے کو فروغ دینے اور اس کی بہتری کے لیے پرعزم ہے۔

پولیو خاتمے کے پروگرام کو 30 سال گزرنے کے باوجود متعلقہ حلقوں کی جانب سے ملک سے پولیو کے خاتمے میں ناکامی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور پولیو اور اس جیسی دیگر بیماریوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

وفاقی وزیر نے پولیو پروگرام کے انضمام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومتی ادارے پولیو خاتمے کے پروگرام کو صرف سہولت فراہم کر رہے ہیں، اور ایجنسی نے گزشتہ برسوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں لیکن اب بھی کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان مقامی طور پر پولیو اور کووڈ 19 سمیت مختلف ویکسین تیار کرنے کا پروگرام بھی شروع کر رہی ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں علاج کی ناقص سہولیات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیر نے کہا کہ وفاق نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ہیلتھ انشورنس کے پروگرام کو حتمی شکل دی ہے، جس کے تحت کم از کم 30 فیصد قومی آبادی کو مکمل طور پر کور کیا جائے گا اور باقی آبادی کچھ اخراجات میں حصہ ڈالے گی۔

ندیم جان نے کہا کہ پاکستان پہلی مرتبہ گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی سمٹ (GHSA) کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جو جنوری 2024 میں منعقد ہونے جا رہی ہے، اس سمٹ کا مقصد ترقی پذیر ممالک میں بیماریوں کے ردعمل اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

خیال رہے کہ ایک محفوظ دنیا کی جانب عالمی کوشش کا حصہ بننے کے لیے، حکومت پاکستان اور وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈ ریگولیشن 10 اور 11 جنوری 2024 کو اسلام آباد میں دو روزہ گلوبل ہیلتھ سیکیورٹی سمٹ 2024 کا انعقاد کر رہی ہے اور دنیا بھر کے رہنماں، بین الاقوامی تنظیموں، سول سوسائٹی اور دیگر شرکا کو اس میں مدعو کیا گیا ہے۔

سربراہی اجلاس کے اہم سٹریٹجک مقاصد کے بارے میں بات کرتے ہوئے، نگراں وزیر نے کہا کہ اس میں ایل ایم آئی سی کے لیے ایکویٹی پر مبنی وبائی امراض کی تیاری کی فنانسنگ کو یقینی بنانے کے لیے عالمی رہنماں کے ساتھ تعاون کرنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ، ویکسین ایکویٹی، پیٹنٹ ڈی ریگولیشن اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے رکن ممالک اور سربراہی اجلاس کے موضوعاتی شعبوں سے وابستہ ماہرین کے ساتھ علم اور بھرپور تجربہ کا باہمی تبادلہ بھی شامل ہے۔

محفوظ عالمی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ علاقائی شراکت داری بھی اس میں شامل ہے تاکہ اپنی صحت کی حفاظت کی ترجیحات کو عالمی اور علاقائی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاسکے اور تکنیکی مدد کے ذریعے اس کی بنیادی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا سکے۔

پانچ سالہ ہیلتھ سیکیورٹی پلان 2024-28 کے لیے پائیدار گھریلو فنڈنگ کے علاوہ پورے خطے اور دنیا بھر میں ہیلتھ سیکیورٹی/IHR 2005 کے لیے مشترکہ کام کرنے اور پول فنڈنگ کے مواقع تلاش کرنا بھی اس سمٹ کا مقصد ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔