اواگادوگو: برکینا فاسو میں فوجی وردی میں ملبوس موٹر سائیکل اور ٹرک سوار حملہ آوروں نے ایک گاوں پر دھاوا بول دیا جس میں 80 افراد ہلاک ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی برکینا فاسو کے گاں میں خون کی ہولی کھیلنے والے 100 سے زئد مسلح افراد فوجی وردی پہنے ہوئے تھے۔ گاوں پر حملہ اور قتل عام کے بعد لوٹ مار بھی کی گئی۔
حملہ آور جاتے ہوئے گاوں کے تمام گھروں کو نذر آتش بھی کر گئے۔مغربی افریقی ملک برکینا فاسو اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم اور غریب ممالک میں سے ایک ہے جو پڑوسی ملک مالی میں پھیلنے والی شورش سے بھی نبردآزما ہے۔قریبی اسپتال میں لاشوں کا انبار لگ گیا جب کہ 100 کے قریب زخمیوں کو طبی امداد دی گئی جن میں سے 10 کی حالت نازک ہونے کے سبب انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل صوبائی دارالحکومت کے اوریما گاں کے قریب عسکریت پسندوں کے حملے میں 6 فوجی اور 34 دفاعی رضاکار ہلاک ہوگئے تھے۔جس کی ذمہ داری حکومت نے القاعدہ پر عائد کی تھی تاہم ایک ہفتے میں ہونے والے ان دونوں حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی شدت پسند تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔بغاوت اور شورش سے نمٹنے کے لیے برکینا فاسو کی فوجی حکومت نے 18 سال سے زیادہ عمر اور جسمانی طور پر فٹ ہر شخص کو مسلح افواج میں بنیادی ٹریننگ اور بھرتی کے لیے بلانے کا اعلان کیا ہے۔
برکینا کے عبوری صدر کیپٹن ابراہیم ترور نے ملک کے 40 فیصد علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں حکومت مخالت عسکریت پسندوں کا قبضہ تھا۔غیر سرکاری امدادی گروپوں کے مطابق صرف دو سال میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 20 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔
