Monday, February 2, 2026
ہومUncategorizedپنجاب، کے پی الیکشن التوا کیس:چیف جسٹس کا فل کورٹ کا اشارہ،ججز سے مشاورت کی تصدیق

پنجاب، کے پی الیکشن التوا کیس:چیف جسٹس کا فل کورٹ کا اشارہ،ججز سے مشاورت کی تصدیق

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے، عدالت نے آج سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کو طلب کررکھا ہے۔

سپریم کورٹ میں آج سماعت کے موقع پر سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ میں انہی افراد کو داخلے کی اجازت ہے جن کے مقدمات زیرسماعت ہیں۔ سماعت کے آغاز سے قبل اٹارنی جنرل پاکستان کی جانب سے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمہ نہ سنے۔

اٹارنی جنرل کی 7 صفحات پر مشتمل متفرق درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن ازخودنوٹس کیس نہ سننے والیججزپر مشتمل عدالتی بینچ بنایا جائے۔حکومتی اتحاد نے فل کورٹ نہ بنائے جانے کی صورت میں سپریم کورٹ کی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

یکم اپریل کو ہونے والے اجلاس کے بعد حکومتی اتحادی جماعتوں کے اعلامیے میں حکومتی اتحاد نے تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ چار رکنی اکثریتی فیصلے کو مانتے ہوئے موجودہ عدالتی کارروائی ختم کی جائے۔آج سماعت شروع ہوئی توپاکستان پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آگئے اور استدعا کی کہ میں کچھ کہنا چاہتے ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کیس کا حصہ بن رہے ہیں؟ کیا آپ بائیکاٹ نہیں کر رہے تھے؟ وکیل پیپلز پارٹی فاروق ایچ نائیک نیکہا کہ ہم نے بائیکاٹ نہیں کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ مشاورت کرکے ہمیں بتائیں، ہمیں تحریری طور پربتائیں، اگربائیکاٹ نہیں کیا تو بھی بتائیں، اخبارات میں آیا ہیکہ پیپلزپارٹی نے بھی بائیکاٹ کیا ہے۔ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو بینچ پر تحفظات ہیں، بائیکاٹ نہیں کیا۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ آپ بائیکاٹ کرکے دلائل دینے آگئے، اجلاس میں کہا گیا ہیکہ بینچ پر اعتماد نہیں ہے۔ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اس پر لارجر بینچ بننا چاہیے۔

وکیل ن لیگ اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا گیا، ہم نے وکالت نامے واپس نہیں لیے،ہمیں بینچ پر تحفظات ہیں، وکیلوں کا عدالت آنا ہی اعتماد ظاہر کرتا ہے۔فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ بینچ کے دائرہ اختیار پر بھی تحفظات ہیں۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا ہے، 48 گھنٹوں سے قومی پریس میں بائیکاٹ کا اعلان چل رہا ہے ، اگرآپ کو ہم پر اعتماد نہیں تو ہمیں بتائیں ، آپ کو ہم پر اعتماد ہی نہیں تو آپ دلائل کیسے دے سکتے ہیں، اگر اعلامیہ واپس لیا ہے تو آپ کو سن لیتے ہیں۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ بائیکاٹ ہی کرنا ہے تو عدالتی کارروائی کا حصہ نہ بنیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وکالت نامہ دینے والوں نے ہی اس بینچ پر عدم اعتماد کیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں، سیاسی جماعتوں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا تو تحریری طور پر بتائیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یکم مارچ کا فیصلہ چار تین کے تناسب سے ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس نکتے پر پہلے بات کرچکے ہیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ انتخابات کی تاریخ آگے بڑھا سکتا ہے، حکومت آئین کے مطابق چلتی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دییکہ سنجیدہ اٹارنی جنرل سے اسی بات کی توقع ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلہ سناچکی تھی، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کیسے تاریخ آگے بڑھاسکتا ہے؟ سپریم کورٹ کا حکم ایگزیکٹو سمیت سب اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یکم مارچ کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کا ہی تھا، 9 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس میں سے4 ججز نے درخواستیں مستردکیں، 4 ججز نے تفصیلی فیصلے جاری کر دیے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس یحیی آفریدی نے درخواستوں کو مستردکیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواستوں کو مسترد نہیں کیا، اس پر اٹارنی جنرل نیکہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے جسٹس یحیی آفریدی کے فیصلے سے اتفاق کیا تھا، 9رکنی لارجربینچ نے 2 دن کیس کی سماعت کی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ججز نے27 فروری کے آرڈر میں بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ مجھے بھجوایا، ہمیں کوئی فیصلہ بتائیں جس میں چیف جسٹس کو نیا بینچ بنانے سے روکا گیا ہو؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پشاورکا کیس ہے جس میں چیف جسٹس کو مرضی کے بینچ سے روکا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پشاورکیس کا حکم آرڈر آف دی کورٹ نہیں ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔