آفتاب بھٹی
اس ملک میں جہاں بائیس کروڑ سے ذیادہ لوگ بستے ہیں انہیں روزگار میسر نہیں ،تعلیم کے لئے سکولوں اور کالجوں میں داخلہ محال ہے،بیماری میں دوا میسر نہیں،ہر ذی شعور کو چاہئے کہ سب سے پہلے اپنے رہنماؤں سے ان مشکلات کا حل دریافت کریں۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے ملک کی غیرجمہوری فضا میں جذباتیت اتنی جاری و ساری ہے کہ ہر مسئلے کو (خواہ اس کا تعلق سیاست سے ہو یا ثقافت سے، اقتصادیات سے ہویامذہب سے، نظم و نسق سے ہو یا رسم و رواج سے) جذباتی رنگ میں پیش کیا جاتا ہے اور اس کی موافقت اور مخالفت میں جو دلیلیں دی جاتی ہیں وہ بھی خالص جذباتی ہوتی ہیں۔ جذباتیت کی اس فراوانی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اہم سے اہم قومی مسئلے پر بھی ہم بحیثیت قوم سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی عادت ترک کر چکے ہیں۔ پنجاب اور کے پی کے کے صوبائی انتخابات ہوں گے بھی یا نہیں اور ہوں گے تو کب۔۔۔؟
ان سوالوں کا تشفی بخش جواب تو نہیں ملا مگر پارلیمنٹ اور عدلیہ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو سیاسی جماعتیں جزوی طور پر ہم خیال ہونے کے باوجود سیاسی پلیٹ فارم پر یکجا ہونے کو تیار نہیں کسی سیاسی جماعت یا محفل کی کامیابی کا معیار رنگ محفل نہیں اس کے عملی نتائج ہیں۔ ہماری ملکی سیاست کے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں جو لہریں بیدار ہوئی ہیں ان کو چند عناصر پھر سلانا چاہتے ہیں۔
گھیراو،جلاؤ، کے نعروں نے ان دنوں بہت شہرت پائی ہے ۔ عمران نیازی کے عشق میں پہلے جرنیل تو اب جج ڈوبے ہوئے ہیں تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو اتنا عدالتی ریلیف ملا ہو جتنا تحریک انصاف کو ملا ہے۔
جب 9 رکنی بینچ سے شروع ہوکر 3 پر سکڑ جائے تو پھر انگلیاں تو اٹھیں گی اگر فل بینچ بنا دیا جائے تو اٹھتی ہوئی انگلیاں رک سکتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ملک پہلے ہی تباہی کے دھانے پر ہے تو تیسری قوت کو موقع مل جائے گا اور پھر تمام سیاسی پارٹیاں جمہوریت کی پلیٹ کو چاٹتی رہیں گی۔
جس طرح خوبصورت ذہن کے بغیر خوبصورت زندگی ممکن نہیں اسی طرح خوبصورت سیاست کے بغیر خوبصورت جمہوریت ممکن نہیں۔
سقراط نے کہا تھا کہ میں بھی جاہل ہوں اور میرے ارد گرد رہنے والے لوگ بھی جاھل ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ میں اپنی جہالت کو جان گیا ہوں اور وہ نہیں جانتے۔
ہمارے سیاستدانوں اور مقتدر حلقوں کی سوچیں ان کے ذہن میں چلنے والی تصویریں اور جس طرح وہ محسوس کر رہے ہیں ضروری نہیں ویسا ہی ہو کیونکہ سوچ آپ کے لیے یا تو ایک دعا کی طرح ہوتی ہے یا بد دعا کی طرح۔ منزلیں بہادروں کا استقبال کرتی ہیں بزدلوں کو راستے کا خوف ہی مار دیتا ہے۔ جو آپ کی برائی کرتے ہیں انہیں کرنے دیں کیوں کہ برائی وہی کرتے ہیں جو برابری نہیں کر سکتے ۔ ناکام لوگ ہر وقت اعتراض کرتے ہیں، ہر معاملے میں خود کو حق دار سمجھتے ہیں، ان کو خود سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا چاہتے ہیں، اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں کو دیتے ہیں، اپنی سوچ کو مکمل سمجھتے ہیں، دوسروں کی ناکامی پر خوش ہوتے ہیں اور ہاں آپ کے دشمن آپ کے اندر ہیں ،غصہ، لالچ، غرور اور نفرت کو اپنے اندر سے نکال دیں تو ایک خوبصورت معاشرہ، حقیقی جمہوریت، آزاد عدلیہ، اور تمام ادارے آئین کے اندر رہ کر اپنے اپنے فرائض سر انجام دیں تو ہم ایک بھیڑ سے قوم بن سکتے ہیں
