ایف الیون بھیکہ سیداں متاثرین کی درخواستوں پر تحریری حکمنامہ جاری ،ا سلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا،تحریری حکم نامے کے مطابق
سی ڈی اے حکام کی ذمہ داری ہے کہ ریاست کی زمین کی حفاظت کرے، سی ڈی اے حکام یقینی بنائیں کہ کوئی پرائیویٹ شخص سرکاری زمین پر قابض نہ ہو، معاوضے کی ادائیگی ہو جائے تو کوئی بھی متاثرین سرکاری زمین پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا، سی ڈی اے رپورٹ پیش کرے کہ ایف الیون موضع بھیکہ سیداں کے ایوارڈ متاثرین نے زمین بھی حوالے کی یا نہیں، ایف الیون سرکاری زمین واگزار کرانے کے لئے چیف کمشنر ہی چیئرمین سی ڈی اے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معاونت کی ہدائت کرنے کی ضرورت نہیں،
چیئرمین سی ڈی اے یقینی بنائیں ایف الیون قبضہ لینے سے متعلق رپورٹ ایک ہفتے میں جمع ہو جائے، 1985 کے بلٹ اپ پراپرٹی ایوارڈ کے حقدار پٹیشنرز کا بھی تعین کر کے رپورٹ جمع کرائیں، حکم نامے کے مطابق وکیل سی ڈی اے نے موقف اختیار کیا ہے کہ 15 افراد بلٹ اپ پراپرٹی کی جگہ اراضی ملنے کے حقدار ہیں، 322 حقداروں میں سے 307 کو ازالے کی رقم ادا کی جا چکی ہے، صرف 15 افراد ایسے ہیں جنہیں تاحال نہیں کی گئی، ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ بقیہ 15 افراد نے قبضہ حوالے کیا یا نہیں، ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے نے کہا ہے کہ اس بات کے تعین کے بعد ہی انہیں ادائیگی کی جا سکتی ہے، سی ڈی اے کی ٹیم جب بھی تصدیق کے لیے جاتی ہے تو اسے رہائشیوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے، بعض اوقات عدالتی حکم امتناع دکھا کر بھی کام میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے،عدالتی حکم نامے کے مطابق اعلی عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں کہ معاملہ ہائی کورٹ میں ہو تو سول عدالتیں حکم امتناع جاری نہیں کر سکتیں، کیس کی مزید سماعت 28 مارچ کو ہو گی
