Tuesday, January 27, 2026
ہومبریکنگ نیوزلاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کا 1990 سے 2001 تک کا ریکارڈ طلب کرلیا

لاہور ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کا 1990 سے 2001 تک کا ریکارڈ طلب کرلیا

لاہور ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کی تفصیلات کے لیے درخواست پر 13مارچ کی سماعت کا عبوری حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالت نے توشہ خانہ کا 1990 سے 2001 تک کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
جسٹس عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ توقع نہیں ہے کہ کسی کوبھی مقدس گائے سمجھا جائیگا، وفاقی حکومت کے وکیل توشہ خانہ کی 2002 کے بعد کی تفصیلات کی مصدقہ کاپی ریکارڈ پر لائیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ نے تحائف کے ذرائع کو کلاسیفائیڈ رکھنیکا فیصلہ کیا ہے، سرکاری وکیل کابینہ کے فیصلے سے متعلق دستاویزات ریکارڈ پر لائیں جس کا جائزہ لیا جائیگا۔
عبوری حکم نامے کے مطابق کابینہ کے سیکشن افسر نے بتایا کہ 1990 سے 2001 کا ریکارڈ جزوی طور پر مکمل ہے، 1990سے 2001 کے ریکارڈ کا آئندہ سماعت پر اوپن کورٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس ریکارڈ کی دستیابی آئندہ سماعت پر یقینی بنائی جائے۔
درخواست پرسماعت 21 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔
خیال رہے کہ درخواست گزارنے قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کی تفصیلات اور جن اشخاص کو تحفے دیے گئے ان کی تفصیلات مانگ رکھی ہیں۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے ایک روز قبل توشہ خانہ کا 2002 سے 2023 کا ریکارڈ پبلک کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت نے کابینہ ڈویژن کی ویب سائٹ پر توشہ خانہ کا ریکارڈ اپ لوڈ کیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔