اسلام آباد-سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور میں انکشاف ہواہے کہ بحرین سے سیلاب متاثرین کے لیے آنے والی ایک ملین ڈالر کی رقم این ڈی ایم اے نے لینے سے انکارکرتے ہوئے کہاکہ ہم اس رقم کواستعمال نہیں کرسکتے ہیں جس کے بعدرقم آرمی ریلیف فنڈ میں جمع کرادی گئی۔حکومت نے سیلاب کی وجہ سے عالمی اداروں کوقرض موخرکرنے کی درخواست نہ کرنے کافیصلہ کیاہے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے این ڈی ایم اے پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اگر این ڈی ایم اے فنڈز بھی نہیں لے سکتی تو اس کو بندکردیں ۔جمعہ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرصدارت ہو۔ اجلاس میں سینیٹر محمد اکرم، سینیٹر منظور کاکڑ،سینیٹر عطا الرحمن، سیکرٹری اکنامک افیئرز کاظم نیاز ودیگر حکام بھی شریک ہوئے۔ حکام نے کمیٹی کو وزارت کے کام سے متعلق بریفنگ دی۔ حکام نے بتایاکہ بیرون ملک سے آنے والے قرض اور گرانٹس لینااور ٹیکنیکل امداد بیرون ممالک کو دینا وزارت اقتصادی امور کرتا ہے۔افریقی ممالک، یمن اور دیگر ممالک سے طلبہ پاکستان پڑھنے آتے ہیں ۔سینیٹرمولانا عطا الرحمان نے سوال کیاکہ دینی مدارس کے لوگ جو پاکستان پڑھنے آتے ہیں وہ بھی اقتصادی امور کے تحت آتے ہیں ؟جس پر ایڈیشنل سیکرٹری نے کہاکہ دینی مدارس کے لیے آنے والے طلبہ ہمارے تحت نہیں آتے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرین کیلئے امداد نہ لینے کا انکشاف
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
