سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی کی چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب سے ناراضگی کی وجوہات منظر عام پر آگئی ہیں۔ اس حوالے سے پنجاب اسمبلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں سابق وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر عملدرآمد سے قبل گورنر ہائوس لاہور میں ایک خفیہ میٹنگ منعقد کی گئی تھی۔
جس میں سپیکر پنجاب اسمبلی نے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب کو پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف جعلی اور جھوٹے مقدمات درج کرنے اور انہیں اور ان کے اہلخانہ کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے گئے لیکن چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب نے سپیکر پنجاب اسمبلی کی اس خواہش کو پورا کرنے سے انکار کردیا تھا۔
ریاست کے دونوں افسران کا کہنا تھا کہ وہ کوئی غیر قانونی اقدام نہیں اٹھائیں گے ذرائع کے مطابق افسران کے انکار پر سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی نے دونوں افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی دھمکیاں دیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی عدم اعتماد کی تحریک کے روز آئی جی پولیس پنجاب کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پولیس فورس کو ایوان میں داخلے کی اجازت دینے پر بھی پر نالاں ہیں۔
