ہومپاکستانپنجاب اب تک کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ پیش کرنے کیلئے تیار

پنجاب اب تک کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ پیش کرنے کیلئے تیار

لاہور(سب نیوز)پنجاب اپنے مالی سال 23-2022 کے سالانہ بجٹ میں اب تک کا سب سے بڑا سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)تجویز کرنے کے لیے تیار ہے،

صوبائی اسمبلی میں بجٹ اجلاس(آج) پیر کو ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ بنانے میں حصہ لینے والے سینئرعہدیدار نے بتایا کہ میں اس وقت ایڈی پی کے حقیقی حجم کی تصدیق نہیں کر سکتا، یہ بجٹ کے اجلاس سے قبل صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد ظاہر کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ تھا صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبہ جات کے لیے مختص کردہ بجٹ مالی سال 22-2021 سے زیادہ ہے۔

ایک اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ڈی پی میں لاہور اور صوبے کے دیگر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں جاری اور نئے منصوبوں کے خاصہ حصہ مختص کیا گیا ہے۔آئندہ سال کے اے ڈی پی کے تحت بلدیاتی حکومت اور کمیونٹی ڈیلوپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کیلیے 30 ارب روپے مختص کیے جانے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ بجٹ کے مجموعی اخراجات 2 ہزار 500 ارب سے 3 ہزار ارب رکھنے کی توقع ہے۔

پی ٹی آئی کی زیر قیادت پنجاب حکومت نے سال 22-2021 کے بجٹ میں اے ڈی پی کے لیے 5 کھرب 60 ارب روپے مختص کیے تھے جسے بعدازاں 6 کھرب 40 ارب تک بڑھادیا گیا تھا۔22 اپریل کو پنجاب اے ڈی پی کے تحت جاری منصوبوں میں 4 کھرب روپے کا ہندسہ عبور کر گیا تھا، توقع کی جارہی ہے کہ 30 جون تک منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے مجموعی طور پر 5 کھرب 50 ارب کی ضرورت ہوگی۔مئی اور جون کے لیے اے ڈی پی کا ہدف بالترتیب 83 اور 60 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم یہ ہدف اب تک عبور نہیں کیا جاسکا ہے۔31 مارچ تک پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے نظرثانی شدہ 6 کھرب 40 ارب کی رقم سے جاری کردہ 5 کھرب روپے میں سے 3کھرب 62 ارب روپے استعمال ہوئے تھے،3 کھرب 62 ارب میں 9 ارب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر استعمال کیے گئے تھے۔

قبل ازیں حکومت پنجاب سے 3کھرب سے زائد رقم استعمال کرتے ہوئے اے ڈی پی کے تحت مختص کردہ 4 کھرب 58 ارب کی 66 فیصد رقم خرچ کی تھی لیکن مئی اور جون کے دوران اے ڈی پی میں استعمال ہونے والی رقم کے اعداد شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے ہیں۔وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہبازشریف نے بجٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے 23-2022 کے بجٹ میں مشکل معاشی حالات میں عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے غریبوں کے لیے اشیا ضروریہ تک پہنچ ممکن بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وسیع نقطہ نظر اپنا رہی ہے، ان کا کہ نظر یہ ہے کہ آئندہ بجٹ میں غریب شہری پر کوئی بوجھ نہیں پڑنا چاہیے، اور عام شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ملک مشکل مالی حالات سے گزر رہا ہے اور ہم حالات کو بہتری کی طرف لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں، ہم ایک جامع منصوبہ مرتب کر رہے ہیں تاکہ عوام مہنگائی سیستائے عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔وزیر اعلی نے مہنگائی کو قابو پانے کے لیے بجٹ میں موثر اقدامات کا اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں سبسڈی پر آٹا فراہم کرنے کا تاریخی ریلیف پیکج آئندہ مالی سال میں بھی جاری رہے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔