Tuesday, February 17, 2026
ہومکالم وبلاگزیوم تکبیرآ ّثار الصنادید کے یادگار لمحے

یوم تکبیرآ ّثار الصنادید کے یادگار لمحے

تحریر:ڈاکٹر ایم کے ریحان
قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحات وقار، عزت و توقیر اور فخر کی علامت کے ساتھ انکی سلامتی اور استحکام کو دوام بخشنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ ہر مشکل وقت یا لمحات کا بر وقت فیصلہ قوم کے حوصلے بلند کرکے یقین کامل کا باعث بنتے ہیں۔ زندہ قومیں ان تاریخی لمحات کو اپنے دلوں میں زندہ و جاوداں کرتی رہتی ہیں۔ تاریخی واقعہ کی نوعیت اور وسعت کا دارومدار اسکے دورانیہ پر ہوتا ہے۔ ایسے تاریخی لمحات کے نتائج جو تبدیلیاں رونما کرتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بھی ایسے تاریخی اور مبارک لمحات سے بھری پڑی ہے۔ 28 مئی 1998کا دن بھی ایسی ہی ایک روشن مثال ہے۔جو اعداد و شمار کا یہ مجموعہ تاریخی حقائق یا واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتاہے، جیسے وقت (تاریخ، وقت)، جغرافیائی محل وقوع، کرداروں کے نام اور عام طور پر اس وقت کے سیاق و سباق یا عالمی صورتحال جس میں واقعہ پیش آیا تھا۔یہ وہ روابط ہیں جو تاریخ میں وقوع پذیر ہونے کے نتیجے یا نتیجے کے طور پر ایک مختلف (نئی) صورتحال پیدا کرتے ہیں۔ایسے ہی ”یوم تکبیر” کے آثار الصنادید کے یاد گار لمحے ہماری ملی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
٭بھارت کو دندان شکن جواب:14اگست 1947ء کی یوم آزادی کے بعد 28مئی 1998ء کا دن اورسہ پہر 3:20منٹ کا وقت پاکستان کی تاریخ کا وہ تاریخ ساز لمحہ ہے، جس کے احسا س تفاخر نے پوری قوم اورعالم اسلام کے مسلمانوں کا سر غرور و سر فخر اور خوشی و استنباط سے بلند کردیا۔بالآخر وہ دن اور لمحات نے دستک دی، جب قومی و ملی جذبوں سے سرشار ڈاکٹر عبدالقدیرخان اور اُنکی پوری ٹیم کی اپنی انتھک محنت نے 28مئی 1998ء کو بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے نہ صرف وطن عزیز کو ناقابل تسخیر قلعہ بنادیا۔ بلکہ وہ قوم اور مسلح افواج کے مورال کوبھی آسمان کی بلند یوںپرلے گئے اور پوری قوم کے اعصاب سے ہندو بنیئے کے خوف کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُنکی ٹیم کے اِس عظیم کارنامے کی بدولت آج 28مئی 1998ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ”تحفظ نظریہ پاکستان اور تکمیل دفاع پاکستان کی تاریخ کا دن” اور”یوم تکبیر” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔28مئی”یوم تکبیر” پاکستان کی تاریخ کا وہ تابناک دن ہے۔جس دن پاکستان نے بلوچستان کے مقام”چاغی” کے پہاڑی سلسلے ”راس کوہ”زیر زمین پانچ ایٹمی دھماکے کرکے عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہونے کا اعزاز حاصل کیااور11مئی1998کو پوکھران میں 3اور 13مئی کو 2 ایٹمی دھماکوںکے بھارتی ایٹمی ایڈونچر کا دندان شکن جواب دے کر جنوب مشرقی ایشیاء میں ہندو بنیئے کے توسیع پسندانہ عزائم اور خطے میں جوہری بالادستی کے بھارتی منصوبے کو بھی خاک میں ملا دیا،اِس تاریخ ساز موقع پر اُس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف (جو تاریخ ساز کامیابی پر خوشی سے بار باراللہ کا شکر یہ ادا کررہے) نے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ”الحمدللہ ہم نے گزشہ دنوں کے بھارتی ایٹمی دھماکوں کا حساب 6کا میاب ایٹمی دھماکوںسے چکا دیا ہے اب ہم پر کوئی دشمن شب خون مارنے کی جرات نہیں کرسکے گا،کامیاب ایٹمی دھماکوں سے پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہوگیا اور ایٹمی تجربات نے ملت اسلامیہ پر پانچ صدیوں سے طار ی جمود توڑ کر اُس کو خواب خرگوش سے بیدار کردیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایٹم بم ملت اسلامیہ کی نہ صرف بلکہ اُس کے اتحاد کی علامت بھی ہے جو عہد رفتہ کی عظمت کو واپس لانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔”یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے ۔ اور ہر قیمت پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے ۔دراصل یہود و ہنود یہ قطعاً پسند نہیں کہ دنیا کے نقشے پر واقع اسلامی ملک پاکستان دُنیا میں عزت و وقارکے ساتھ زندہ رہے اور عالم اسلام کی قیادت کا فریضہ انجام دے۔بھارت نے ہمیشہ ہی مختلف حیلوں اور بہانوں سے سازشوں میں مصروف رہا۔ بھارت کا ایٹمی پروگرام،امریکہ،روس اور دیگر ایٹمی طاقتوں سے جوہری معاہدے، جدید لڑاکا طیاروں اور،فوجی سازو سامان کا حصول اور اسلحہ کے انبار،سب اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ 1960ء کے عشرے میں جب بھارت بڑی تیزی سے جوہر ی تجربات کی سمت بڑھ رہا تھا،اُس وقت ہماری سیاسی قیادت جوہری اسلحہ کے میدان میں قدم رکھنے سے مخمصے کا شکار رہی ۔
٭٭ نیوکلیئر پاور پلانٹ کا افتتاح : ایوب کابینہ کے وزیر خارجہ زیڈ اے بھٹوکی دور اندیش نگاہوں سے بھارت کا ایٹمی پروگرام اور جارحانہ عزائم مستقبل کی نیوکلیئر طاقت کے روپ میں پاکستان کیلئے خطرہ محسوس کیا اور اُنکی خواہش تھی کہ طاقت کے توازن کو برابر کرنے کیلئے پاکستان کو بھی اپنا جوہری پروگرام شروع کرنا چاہیے ۔کہ اس مقصد کے حصول کیلئے بھٹونے کابینہ میںتجویز پیش کی۔ کہ پاکستان کو جوہری اسلحہ کی تیاری کا پروگرام شروع کرنا چاہئے۔ لیکن ایوبی دور میں امریکہ نواز وزیر خزانہ محمد شعیب اور دیگروزیروں نے بھٹو کی اِس تجویز یکسر مسترد کر تے ہوئے” جوہری صلاحیت” کے عدم حصول کا فیصلہ کیا۔1963ء میں جب صدر ایوب خان فرانس کے دورے پر گئے تو وہاں فرانسیسی صدر چارلس ڈی گال نے پاکستان میں جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پیش کش کی ۔لیکن ایوب خان نے فرانس کی یہ پیشکش اُس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل یحییٰ خان، سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی ) اور منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیئرمین مرزا مظفر احمدقادیانی المعروف ایم ایم احمد (جو پاکستان کو مسلم ایٹمی طاقت کے روپ کے مخالف تھے ) نے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔لیکن 20ویں صدی کے7ویں اور 8ویں عشرے میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کا عنان اقتدار سنبھالا ۔تو انہوں نے وطن کوایٹمی طاقت بنانے کیلئے 1973ء میں جوہری صلاحیت کے حصول کا باقاعدہ آغاز کیا۔یاد رہے کہ( 1965 ء میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایک بیان میں کہا تھا۔’ہم گھاس کھالیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے)۔ ذوالفقار علی بھٹو کا اسی عزم صمیم کو 1973ء میں فرانسیسی حکومت کو جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پرانی پیشکش کی تجدید پر آمادہ کیا۔1975ء میں امریکی کانگرس سے واویلا مچایا کہ فرانس پاکستان کو ایٹمی مشینری کا معائدہ کرنیوالا ہے۔بھٹو نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو درست سمت میں گامزن کرنے کیلئے ”جوہری توانائی کمیشن ”کے سربراہ ،سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی) کو بھی برطرف کر دیا ۔اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو کہ اُس وقت ہالینڈ میں مقیم تھے۔ کو پاکستان بلواکر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی ذمہ داریاں سونپیں۔ بھٹو صاحب اس پروگرام کے سرپرست اعلیٰ تھے۔انکے حکم پرعالمی شہرت یافتہ مایہ ناز ایٹمی سائنسدان اور پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کے با نی و معمارڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انتہائی نامساعد حالات میں پاکستان کے جوہری پروگرام کا آغاز کیا۔مشکل ترین حالات میں جوہری پروگرام کی تشکیل،تعمیر اور تکمیل کی یہ داستان بھی اللہ تعالیٰ اوراُسکے حبیب کریم ۖ ہی کے بے پایاں فضل و کرم کا ثمر ہے۔ڈاکٹر عبد القدیر خان کی زیر نگرانی1976ء میں پاکستان کے سائنس دانوں نے کہوٹہ لیباٹری میں یورنیم کی افزودگی کا کام شروع کیا ۔سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 نومبر 1972ء کو کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کا افتتاح کیا۔پاکستان کو خفیہ اطلاع مل چکی تھی ۔کہ بھارت اعلانیہ طور پرپاکستانی ایٹمی ٹیکنالوجی کی مخالفت اور خودخفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کے پروگرام پر گامزن ہے۔امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے 1976ء میں بھٹو کو دھمکی دی ،کہ اگر انہوں نے ایٹمی پالیسی ترک نہ کی تو انکو ”نشان عبرتناک ” بنا دیا جائیگا۔ اس دھمکی کے باوجود بھٹو کے نزدیک اُنکی جان سے زیادہ ملک و قوم کی سلامتی اور بقاء زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ جو پہلے ہی بھارتی ایٹمی پروگرام کی وجہ سے شدید خطرے میں تھی۔ پاکستان کا جوہری پروگرام کو وسعت جس برق رفتاری سے ہو رہی تھی۔ وہ امریکہ اور صہیونی لابی کے نزدیک ”جوہری پروگرام ” نہ قابل قبول اور قابل معافی جرم ٹھہرایا گیا ۔لیکن پاکستانی قیادت نے اپنا مشن جاری رکھا۔ یکم مئی 1981کو صدر جنرل ضیا الحق نے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرج لیبارٹری کا نام رکھا۔جبکہ 1982ء تک پاکستانی سائنسدان 90% افزودگی کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے ۔
٭اسلامی بم کاشوشہ :آج پاکستان کا جوہری پروگرام اور ایٹم بم پورے عالم اسلام کا جوہری پروگرام اور ایٹم بم ہے۔جسکے خلاف ہندو و یہود اور اسکے حواری سازشوں میں مصروف ہیںاوروہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔انکی خواہش ہے کہ کسی طرح پاکستان کو جوہری صلاحیت سے محروم کردیا جائے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی فتنہ ساماں کہانی مغربی پریس کی زینت بنتی رہتی ہے اور بے سروپا شوشے اڑائے جاتے ہیں۔ اس کھلے تضاد اور دو عملی کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت روز اوّل سے بھارت جیسے دشمنوں اور امریکہ جیسے نام نہادوستوں کیلئے سوہان روح بنی رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تیس سال کے دوران پاکستان بار بار امریکی پابندیوں اور مخالفانہ پروپیگنڈے کا شکار ہوا۔ہندو دیہود کی نسبت پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے ۔الحمد اللہ! پا کستان کا جوہری ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ امریکی مرعوبیت اور بھارت نواز سوچ کے حامل یہ گماشتے بھول رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ پاکستان ایٹمی قوت نہ ہوتا۔ تو ممبئی دھماکوں کے بعد بھارت پاکستان پر حملہ کرنے میں ایک دن کی تاخیر نہ کرتا۔ سب سے زیادہ ستم ظریفی یہ ہے کہ جو ممالک پاکستان کے ایٹم بم پر ”اسلامی بم” سے تشبیہ دیتے ہیں، اِنکے نزدیک امریکہ برطانیہ اور فرانس کے ایٹم بم ”عیسائی بم” نہیں ہیں۔ روس کے بم ”کمیونسٹ بم” نہیں ہیں۔ بھارت کا ایٹم بم ”ہندو بم”نہیں ہے اور نہ ہی اسرائیل کا ایٹم بم ”یہودی بم” کیوں نہیں پکارا جاتا۔
٭ پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ نارواں سلوک: زیڈ اے بھٹو اور میاں نواز شریف میں ایک قدر مشترک اور بروقت فیصلے تھے۔ کہ دونوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے حوالے سے عالمی سازشوں اور امریکی صدر بل کلنٹن کے دباؤ کو جوتے کی نوک پر رکھا ۔جسکے پیش نظردونوںکو”ہندو و یہود” کی بے رحم تازیانوں کا سامنا کرنا پڑا۔تاریخی اوارق بتاتے ہیں”ایٹمی ٹیکنالوجی لانے والے ذوالفقار علی بھٹو کو 27مئی کوامریکی فیر سا سائنز ساجونیر نے جوہری پاور سے باز رہنے کا امریکی پیغام پہنچایا ۔جسکے بعدانہیںتختہ دار پر لٹکا یا گیا ۔ صدر ضیاء الحق کو سی130طیارے کے پُراسرار حادثے میں ٹھکانے لگا دیا گیا۔ملکی دفاع ناقابل تسخیر اورایٹم بم کے خالق مایہ ناز فرزند ڈاکٹر” عبد القدیرخان ”کو غداری کا طوق پہنایا گیا۔ (انھیں 2004 میں مشرف دور میں جوہری ٹیکنالوجی کی مبینہ منتقلی کے بارے میں ”زبردستی اعترافِ جرم’ کے بعد پانچ برس نظربندی کی صعبوتیں دی گئیں۔یکم اپریل 1936ء کے روز بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر قدیر کی نظر بندی کو 2009میںہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم پر مشتمل عدالت نے سوموار کو اپنے مختصر فیصلے میںانکی” نظر بندی” ختم کر دی۔ محسن قوم 26 اگست 2021 کو 82 سال کی عمر میں دارفانی سے کوچ کیا ۔انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ ایچ ایٹ کے قبرستان میں دفن کیا گیا)۔جبکہ ایٹمی دھماکے کرنے والے سابق پریم منسٹر میاں نواز شریف کو قید و بند کی صعوبتوں اور تا حیات نا اہلی کا سامنا ہے۔( صرف صدر غلام اسحاق خان،وزیر اعظم محمد خان جونیجو ہنود یہود کی سازشوںکے چنگل سے بچے تھے) آخر کیا وجہ ہے کہ وہی لوگ عبرت کا نشان بنے جو اس پروگرام کا حصہ داررہے؟ آخر کیوں؟۔درحقیقت ہمارا میزائل اورایٹمی پروگرام جو قومی افتخار اورملکی بقاء کی علامت اور پاکستان کے دفاع استحکام اور سلامتی کا ضامن ہے ۔جو دشمن کے ناپاک و مذموم عزائم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔جسکی حفاظت اتحاد و یگانگت اور قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے ۔الحمداللہ !پاکستان کے تمام سابق حکمرانوں ،افواج پاکستان اور سائنس دانوں کی کاوشیں رنگ لائیں۔ جنکی بناپر 24سال قبل 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں (بروز جمعرات سہ پہر تین بجکر 40 منٹ )پرجوہری دھماکوںکے بعد”پاکستا ن” دُنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے طور پر نقشے پرنمو دار ہوا (اللہ پاک تا محشر اسکو قائم دائم رکھے)۔ قوم ہر سال یہ دن بطور ایٹمی قوت جوش و جذبہ کے ساتھ مناتی ہے۔آج پاکستان ایٹمی صلاحیتوں کے استعمال میں انتہائی صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ اور وہ کم سے کم دفاعی صلاحیت کے اصولوں پر کاربند ہے۔ جس سے خطے میں دفاعی توازن برقرار ہے ”بلا شبہ ”رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن ”۔لیکن خوش گمانی اطمینان آرزو اور الوالعزمی ایک حوصلہ افزا بات ضرور ہے، لیکن بسا اوقات خوش فہمی،رجائیت اور خوش خیالی انسان کیلئے خسارے کا باعث بن جاتی ہے۔قوموں اور ملکوں کے معاملات و معاہدات میں خوش فہمی، اکثر بے رحم، تباہ کن، سفاک اور المناک انجام پر منتج ہوتی ہے۔ لہٰذا حالات کا ادراک وتقاضا ہے کہ ہمارے حکمران اور عوام اپنے آپ کو جانیں، دشمن کو پہچانیں اور اسکے عزائم و ارادوں کو سمجھیں۔اسی میں ہماری ملکی اور ملی بقا ہے۔”آج ہی اہل پاکستان اپنے محسنوں کو سلوٹ کرتی ہے اور دُعا دست بدست گو ہے جو حضرات اس فانی دُینا سے کوچ کر گئے، اللہ تعالیٰ انہیںاپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ اور ارفع مقام فرمائے” آمین۔ثم آمین ” ”پاکستان زندہ باد”افواج پاکستان پائندہ باد”٭

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔