چین افغانستان کو ہنگامی امداد فراہم کر رہا ہے، چینی نا ئب وزیر جا رجہ
بیجنگ (ما نیٹر نگ ڈیسک)
پہلا “چین + پانچ وسطی ایشیائی ممالک” تھنک ٹینک فورم بیجنگ میں منعقد ہوا۔ “افغانستان کی نئی صورتحال اور وسطی ایشیائی سلامتی اور ترقی” کے موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے چین اور وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے سفارت کاروں اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں نے آن لائن اور آف لائن طریقوں سے فورم میں حصہ لیا۔شرکاء نے کہا کہ چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے افغانستان کی مدد کرنی چاہئیے، تاکہ افغانستان میں حالات کو ہموار طریقے سے معمول پر لایا جا سکے۔
چین کے نائب وزیر خارجہ لے یو چھنگ نے فورم میں نشاندہی کی کہ افغانستان میں تبدیلیوں کے اسباق بہت گہرے ہیں، جس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ مسلح مداخلت، طاقت کی سیاست، اور نام نہاد “جمہوری تبدیلی” کی پالیسیاں ناکام ہیں۔ اس وقت افغانستان کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ افغان مسئلے پر چین اور وسطی ایشیائی ممالک کا مشترکہ موقف ہے کہ افغانستان میں ایک کھلا اور جامع سیاسی ڈھانچہ قائم کیا جائے۔
چینی نائب وزیر خارجہ لے یو چھنگ نے کہا کہ ایک پڑوسی ملک کے طور پر، چین افغانستان کو ضروری ہنگامی امداد اور انسداد وبا کی امداد فراہم کر رہا ہے، اور افغانستان کو 200 ملین یوآن کی ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کے عمل کو تیز کر رہا ہے۔
